پاکستانی فلم ساز شہزاد حمید نئی ڈاکیومنٹری فلم پر کام کررہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر مبنی ہے۔ 3 گھنٹے کی اس ڈاکیومنٹری فلم 'دی پولیٹکس آف کلائمٹ چینج' کا ٹریلر بھی ریلیز کردیا گیا ہے۔ شہزاد حمید کا اس فلم کے حوالے سے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے آسٹریلیا کے کوئلے، پاکستان میں ہمالیہ سے متعلق اور برازیل کے ایمیزون جنگلات پر تحقیق کے لیے بہت سفر کیا، اس سفر کے دوران میری ملاقات ایسے افراد اور کارکنان سے ہوئی جو 21ویں صدی کے سب سے بڑے مسئلے موسمیاتی تبدیلی پر کام کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ ماضی میں شہزاد حمید ایسی کئی ڈاکیومنٹریز تیار کرچکے ہیں جن میں سماجی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہو۔ ان کی حال ہی میں سامنے آئی ڈاکیومنٹری میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے گزشتہ سال اپنی فلم 'کوٹ ان دی کراس فائر‘ کے لیے کینیڈا میں منعقد انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ 48 منٹ پر مبنی یہ ڈاکیومنٹری افغانستان میں جاری جنگ میں موجود صحافی سے ملاقات پر مبنی ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں شہزاد حمید نے قصور لوسٹ چلڈرن نامی ڈاکیومنٹری کے لیے ہیومن کنسرن کیٹیگری میں سلور ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ شہزاد حمید کو نیویارک فیسٹیول میں دیا جانے والا یہ دوسرا اعزاز تھا، اس سے قبل 2016 میں انہوں نے اپنی ڈاکیومنٹری ’فلائٹ آف دی فیلکنز‘ کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا، اس ڈاکیومنٹری کو کمیونٹی پورٹریٹس کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا۔ 'دی پولیٹکس آف کلائمٹ چینج' کا پریمیئر رواں سال یکم فروری کو نیوز ایشیا چینل پر ہوا۔