وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ احساس پروگرام میں رقوم کی تقسیم غیرمنصافہ تھی۔ راولپنڈی میں احساس کفالت پروگرام کے دوسرے مرحلے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ پروگرام غریب لوگوں پر احسان نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے اس طبقے کو جو کمزور ہے اس کی حمایت کریں، ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو ایک صحت کارڈ دیں گے، جس کا مطلب آپ ساڑھے 7 لاکھ روپے تک کسی بھی ہسپتال میں علاج کروانا چاہیں گے تو وہ مفت ہوگا لیکن اس کے علاوہ ہم ایک اور پروگرام کر رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نیا پاکستان ہاؤسنگ کے تحت ایک نیا سسٹم لارہے ہیں، اس کے علاوہ ہم اخوت کے ساتھ مل کر ساڑھے 3 ارب روپے دے چکے ہیں اور آگے 10 ارب روپے دیں گے تاکہ مستحق لوگوں کو وہ بغیر سود کے قرضے دیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم آپ کو اپنے کاروبار کرنے کے لیے مدد کریں گے، جس کے بارے میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر آگاہ کریں گی۔ اپنی گفتگو کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے مستحق لوگوں کو جائیں کیونکہ ہم نے ایسی فہرستیں دیکھی ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو مستحق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے احساس پروگرام میں پیسوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں یا منصفانہ طریقے سے نہیں کی، یہ ثانیہ نشتر کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے اور کہیں سے یہ آواز نہیں آئی کہ پیسے کی تقسیم غیرمنصفانہ تھی بلکہ سندھ کی آبادی کے حساب سے ہم نے زیادہ پیسہ سندھ میں دیا، حالانکہ ہماری وہاں حکومت نہیں تاہم ہم نے میرٹ کی بنیاد پر یہ کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم آج سے اس کا دوسرا مرحلہ شروع کر رہے ہیں جس میں 70 لاکھ خاندانوں میں ہم آج سے پیسے بانٹنا شروع کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اس کی منصفانہ تقسیم ہو اور سیاسی بنیادوں یا من پسندوں کو پیسہ نہیں بانٹا جائے گا۔