تازہ ترین

افسوس ہوتا ہے جب مراد علی شاہ ہماری بات مان لیتے ہیں اور بلاول میڈیا پر کچھ اور کہتے ہیں، عمران خان

افسوس-ہوتا-ہے-جب-مراد-علی-شاہ-ہماری-بات-مان-لیتے-ہیں-اور-بلاول-میڈیا-پر-کچھ-اور-کہتے-ہیں،-عمران-خان

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کے دورے پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے ملک کو کرونا وائرس کی عالمی وبا نے اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو ہم لوگوں نے کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا سوچتے ہوئے تمام فیصلے کیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کو لے کر یہاں پر سیاست کی گئی، ہم نے ایک سی سی پی او کہ اس سسٹم ڈویلپ کیا جہاں پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت تمام صوبوں کے ڈاکٹرز مل بیٹھ کر مشاورت کے ساتھ فیصلے کرتے تھے، جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے یہ بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جو این سی سی کی میٹنگز ہوئیں اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ بیٹھ کر ہم نے رائے شماری سے فیصلہ کیا لیکن اس کے ایک گھنٹے کے بعد ٹی وی پر جا کر دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے وزیر کو کچھ اور ہی باتیں کر رہے ہیں کہ وفاق نے ہمارے ساتھ یہ کر دیا وہ کر دیا۔ ہماری جانب سے آج تک جتنے بھی فیصلے کیے گئے ان فیصلوں کو کرنے سے پہلے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو آن بورڈ لیا گیا، کرونا وائرس کے شروع کے دنوں میں ہمیں مسئلہ صرف یہ درپیش ہوا کہ سندھ حکومت نے سندھ بھر میں بہت سخت لاک ڈاون کر دیا تھا، میں تو شروع کے دن سے ہی سخت لاک ڈاؤن کے مخالف تھا کیونکہ وہ ملک جس میں غربت اس قدر ہوں وہ کبھی بھی مکمل اور سخت لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی کل آبادی میں سے چالیس فیصد کچی آبادی ہے، جہاں پر ایک ہی کمرے میں 8، 8 لوگ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں، جس جگہ پر ڈھائی کروڑ لوگ روزانہ کما کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اگر اس ملک میں ساخت لاک ڈاؤن کر دیا جائے تو لوگ تو بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے، سب کچھ جانتے ہوئے بھی پیپلزپارٹی نے مجھ سے پوچھیں بغیر سندھ کو بند کر دیا، وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ میری پہلے دن کی سٹیٹمنٹ پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ میں نے کہا کیا تھا، میں نے کہا تھا کہ ہمارے ہاں دو بڑے مسئلے ہیں، ایک طرف ہم نے اپنے لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانا ہے تو دوسری طرف ان کو بھوک سے مرنے سے بھی بچانا ہے، لیکن سندھ حکومت نے 18 ویں ترمیم کے تحت ملے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مجھ سے پوچھے بغیر سندھ کا بند کر دیا، جس کو دیکھتے ہوئے باقی صوبوں نے بھی سندھ کو دیکھتے ہوئے سخت لاک ڈاون کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب صوبوں نے اٹھارویں ترمیم کے تحت ملے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صوبوں میں ساخت لاک ڈاؤن کر دیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کچی آبادیوں میں سے کوئی گاڑی گزرتی تھی تو وہاں پر موجود بے روزگار اور بے سہارا مزدوروں نے لوگوں کی گاڑیوں پر دھاوا بولتے ہوئے ان کو لوٹنا شروع کر دیا، ایسے میں ہم لوگوں نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاون کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں