اسلام آباد: کرونا وائرس کے ہول ناک نتائج کے باعث تباہی کے بھنور میں پھنسی معیشتوں کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے اہم فورم پر وزیر اعظم عمران خان کی تجاویز کا زبردست خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے امداد برائے ترقی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کرونا وائرس کے بھیانک معاشی اثرات سے نکلنے اور متاثرہ ملکوں کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عالمی سطح کے اقدمات پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں معاشی اور سماجی کونسل کی صدر مونا جُول نے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے حوالے سے متعدد تجاویز کا جائزہ لیا اور عمران خان کے مطالبے کی تائید کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تیجانی محمد باندے نے بھی قرضوں میں چھوٹ کے لیے پاکستان کی تجاویز کا خیر مقدم کیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی کرونا وائرس اور قرضوں کے حوالے سے اپنے پالیسی بیان میں عمران خان کے مطالبے کی حمایت کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے یو ٹیوب وی لاگرز نے ملاقات کی تھی، جس میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو کرونا کے معاملے پر دنیا بھر سے کوئی مالی امداد نہیں ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ گر چکی ہیں، زر مبادلہ بھی کم ہو گیا، صرف آئی ایم ایف نے قرضوں کی قسطوں میں سہولت دی ہے۔