امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 19000 ہزا تماشائیوں کی جگہ 1 ملین افراد کو ایرینا تک کھنچ کر لانے کی خواہش پوری نہ ہوسکی، جس پر ان کا یہ دعوٰی ٹک ٹاک پر مذاق بن گیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے صدارتی مہم کیلئے ہفتہ کے روز اوکلاہوما کے شہر تالسا کا انتخاب کیا۔ ریلی سے قبل امریکی انتظامیہ اور خود امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ 19000 تماشائیوں کی جگہ کو 1 ملین افراد سے بھر دیں گے، تاہم یہ دعوی اس وقت ہوا ہوگئے جب تالسا کا ایرینا 19000 تماشائیوں کو بھی نہ جمع کرسکا۔ https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1272521253136498690 بہت سے ایسے افراد کو ٹرمپ کی ریلی کے ٹکٹ خریدنا چاہتے تھے، ان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر امریکی صدر اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ امریکی صدر کی جانب سے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ تقریباً 1 ملین افراد کی جانب سے اوکلاہوما کے شہر تالسا میں ہونے والی ریلی کیلئے ٹکٹ کی درخواست کی گئی ہے، جب کہ مقامی ٹرمپ نواز انتظامیہ کا بھی کچھ ایسا ہی ملا جلا دعوی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 1 ملین سے زیادہ افراد اس ریلی میں شرکت کریں گے۔ تاریخ گنتے گنتے ہفتہ کی شام بھی آگئی، مگر پھر جو سب نے دیکھا وہ ایک مذاق ہی لگا۔ 19000 افراد کی جگہ والا ایرینا 1 ملین کا دعوی تو دور کی بات 10،000 تماشائیوں کو بھی اپنے دامن میں سمو نہ سکا اور خالی نظر آیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس ایرینا کو بھرنے کیلئے امریکی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کا بھی سہارا لیا گیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ افراد اس ریلی میں شرکت کیلئے آئن لائن رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ کے 2020 برینڈ مینجر بریڈ پاراسکیل کا کہنا ہے کہ یہ تاثر دیا گیا کہ مہم کو ناکام بنایا گیا،جس کیلئے بائیں بازو کے افراد اور آئن لائن تنقید کرنے والوں نے زیادہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کیلئے آئن لائن رجسٹریشن کیلئے موبائل نمبرز لازمی تھے اور اسلسلے میں ہم نے کئی جعلی نمبروں پر کی گئی رجسٹریشن کو کینسل کیا۔ آئیووا سے تعلق رکھنے والی 51 سالہ خاتون سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کی ریلی ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آئیووا کی 51 سالہ میری جو لاپ بڑی تعداد میں لوگوں کو ریلی کیلئے آئن لائن رجسٹریشن کی تلقین کی اور کہا کہ وہ رجسٹریشن کے بعد ریلی میں شرکت نہ کریں اور اس طرح زیادہ سے زیادہ ٹکٹ بک کرلیں۔ میری کے مطابق وہ تمام لوگ جو 19000 تماشائیوں والے اسٹیڈیم کو ناکام بنانے اور ٹرمپ کو وہاں اکیلا کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ٹکٹ ریسور کریں اور ٹرمپ کو ناکام بنائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میری خود بھی ٹک ٹاک استعمال کرتی ہیں اور ان کے ٹک ٹاک پر 1000 سے زائد فالورز ہیں۔ انہوں نے ٹک ٹاک کی طاقت سے اس مہم میں کردار ادا کیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا اپیکیکشنز کو بھی سماجی انصاف کیلئے ایک طاقت ور ترین زریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جنوبی کورین میوزک گروپ کے فینز کی جانب سے بھی 6 ملین کی ٹوئٹ کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا گیا۔ امریکی شہر تالسا میں صدر ٹرمپ کی ناکام ریلی کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایک صارف کا اپنی ٹوئٹر میں کہنا تھا کہ یہ ہے ٹک ٹاک کی طاقت کہ کیسے اتنے طاقت ور کو ٹک ٹاک کے بچوں نے بوگس ٹکٹ سے مات دے دی۔ https://twitter.com/AOC/status/1274499021625794565 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل امریکی انتظامیہ ‘ٹک ٹاک’ ویڈیو ایپ کو چین کے لیے جاسوسی کے سلسلے میں اسے امریکیوں کیلئے خطرہ قرار دے چکی ہے۔ امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک صارفین کے موبائل اور کمپیوٹر سے خاموشی سے رابطہ چینی خفیہ ایجنسیوں سے کرا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے چینی ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ کے خلاف الزامات ہیں۔ دنیا بھر میں 50 کروڑ صارفین کے ساتھ ٹک ٹاک گزشتہ دو برس میں مقبولیت حاصل کرچکی ہے جس میں 60 سیکنڈ طویل ویڈیو تیار اور نشر کی جاسکتی ہے۔ صرف امریکا میں 11 کروڑ سے زائد صارفین اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ ٹک ٹاک کے حوالے سے امریکی انتظامیہ نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ ویڈیو ایپ رواں سال انتخابات میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس طرح سال 2016 کی مہم میں روس نے امریکی سوشل میڈیا پر گڑ بڑ کی تھی۔