تازہ ترین

ایس ایل سیزن پانچ : پی سی بی حکام ناک آؤٹ راؤنڈ کے انعقاد پر مصر

ایس-ایل-سیزن-پانچ-:-پی-سی-بی-حکام-ناک-آؤٹ-راؤنڈ-کے-انعقاد-پر-مصر

اولین مقصد باقی رہ جانے والے میچوں کو یقینی بنانا ہے ،رواں برس کے اختتام تک دو ممکنہ ونڈوز مل سکتی ہیں،محض تین سے چار دن درکار ہوں گے ،اس پہلو پر کام کا سلسلہ جاری ہے یہ کوئی مذاق نہیں کہ ٹاپ ٹیم ہونے کے ناطے ملتان سلطانز کو ٹرافی دے دی جائے ،اگر پلے آف مرحلہ نہیں کرا سکے تو پھر دنیا کی دیگر لیگز کی طرح فاتح کا اعلان کردیں گے ،وسیم خان کراچی : پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام پی ایس ایل سیزن پانچ کے ناک آؤٹ راؤنڈ کا انعقاد کرانے پر مصر ہیں اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ اولین مقصد باقی رہ جانے والے میچوں کو یقینی بنانا ہے ،رواں برس کے اختتام تک دو ممکنہ ونڈوز مل سکتی ہیں،محض تین سے چار دن درکار ہوں گے ،اس پہلو پر کام کا سلسلہ جاری ہے ،یہ کوئی مذاق نہیں کہ ٹاپ ٹیم ہونے کے ناطے ملتان سلطانز کو ٹرافی دے دی جائے ،اگر پلے آف مرحلہ نہیں کرا سکے تو پھر دنیا کی دیگر لیگز کی طرح فاتح کا اعلان کردیں گے ۔تفصیلات کے مطابق معروف کرکٹ ویب سائٹ کے اسٹمپ مائیک پوڈکاسٹ پر گفتگو کے دوران چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کا اولین مقصد پی ایس ایل سیزن پانچ کے ناک آؤٹ مرحلے کو یقینی بنانا ہے جو رواں سال کے دوران کسی بھی وقت ممکن ہے حالانکہ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ گروپ مرحلے کی سرفہرست ٹیم ملتان سلطانز کو ٹرافی دی جا سکتی ہے ۔وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل فائیو کو مکمل طور پر پاکستان میں کرانا زبردست کامیابی ثابت ہوا حالانکہ ایونٹ کو کورونا وائرس کے باعث سیمی فائنلز سے قبل روکنا پڑا لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چار مراکز پر ہونے والے 26 مقابلوں کو چھ لاکھ کے لگ بھگ شائقین نے دیکھا اور پی سی بی کے اسٹاف کی جانب سے روز و شب کی محنت کارآمد ثابت ہوئی جس کو سراہا جانا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے رواں برس کے اختتامی عرصے میں دو ممکنہ ونڈوز تلاش کرلی ہیں جب باقی میچوں کو کرانا ممکن ہو سکتا ہے اور ان امکانات پر مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیا جا رہا ہے ۔گزشتہ ہفتے فرنچائز مالکان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے دوران اگرچہ منقسم آراء سامنے آئیں مگر وسیم خان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سیزن پانچ کے باقی میچز کب کھیلے جا سکتے ہیں اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید ہے کہ رواں برس کے اختتامی عرصے میں ممکنہ ونڈوز تلاش کرلی جائیں گی کیونکہ ان کا اولین مقصد یہی ہے کہ ایونٹ کے فاتح کا فیصلہ میدان میں ہونے والے مقابلوں کی بنیاد پر ہونا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھا جائے تو باقی میچوں کے انعقاد کیلئے تین سے چار دن کا وقت درکار ہوگا اور وہ اسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا کام کر رہے ہیں تاہم اس کیلئے فرنچائز مالکان سے رائے اور تجاویز بھی لی جائیں گی اور پھر دیکھا جائے گا کہ ممکنہ فارمیٹ کیا ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی طور پر گروپ اسٹیج کے بعد کوالیفائر اور ایلی منیٹر میچوں کے بعد فائنل کا پلان بنایا گیا تھا تاہم بعد میں کورونا وائرس کے باعث صورتحال تبدیل ہوئی تو انہوں نے شائقین اور کھلاڑیوں کی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایونٹ کے اختتام کیلئے سیمی فائنلز اور فائنل کو بنیاد بنایا اور موجودہ حالات میں بھی تمام ممکنہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ معاملہ احسن انداز سے حل کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ڈومیسٹک ایونٹس میں ان ٹیموں کو فاتح قرار دیا گیا جو پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست تھیں جیسے کہ آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز کو شفیلڈ شیلڈ،نیوزی لینڈ میں ویلنگٹن کو پلنکٹ شیلڈ اور جنوبی افریقہ میں لائنز اور ڈولفنز کو فرسٹ کلاس اور ون ڈے مقابلوں میں فاتح قرار دیتے ہوئے انہیں ٹرافی کا مستحق سمجھا گیا لیکن وسیم خان اس آئیڈیا کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گروپ اسٹیج میں چودہ پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ٹیم ملتان سلطانز کو ٹرافی نہیں دی جا سکتی۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ ملتان سلطانز کی ٹیم کو موجودہ حالات میں فاتح کی حیثیت سے ٹرافی دے دی جائے اگرچہ وہ اس اعزاز کی مستحق دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ان کا پہلا مقصد ایونٹ کو مکمل کرانا ہے تاہم ایسا نہیں ہو سکا تو پھر دنیا کی دیگر لیگز کی طرح فاتح کا اعلان کردیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ ملتان سلطانز کو ہی اس حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں