تازہ ترین

برطانیہ میں گاندھی کے مجسمے کے منہ پر کالک مل دی گئی

برطانیہ-میں-گاندھی-کے-مجسمے-کے-منہ-پر-کالک-مل-دی-گئی

امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں نسل پرستوں اور غاصبوں کے خلاف ایک تحریک چل اٹھی ہے جس میں موجودہ یا تاریخ کا حصہ بننے والے نسل پرستوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنی قوم یا اپنے ہی جیسے لوگوں کو دیگر ممالک جیسے یورپ وغیرہ میں لے جا کر بیچا یا غلامی پر مجبور کیا ان کے خلاف مہم شروع ہو چکی ہے۔ اسی تحریک کے تناظر میں بھارت میں ہندوتوا سوچ کے حامی اور مسلمانوں اور چھوٹی ہندو ذاتوں سے نفرت کرنے والے بھارتی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کے مختلف ممالک میں نصب کیے گئے مجسموں کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہو چکا ہے جس کے تحت برطانیہ میں نصب کیے گئے گاندھی کے مجسمے کا نامعلوم افراد نے منہ کالا کر دیا ہے۔ https://youtu.be/qg_UtGo6pko اسی تحریک کے باعث مختلف ممالک میں موجود گاندھی کے مجسموں کو ہٹانے کی تحریک کا آغاز ہو گیا ہے کیونکہ گاندھی ذات پات پر پختہ یقین رکھتے تھے اسی وجہ سے وہ شودر اور دلتوں کے سخت خلاف تھے اور مسلمانوں سے بھی پکی نفرت کرتے تھے۔ افریقی ملک گھانا میں گاندھی کا نصب مجسمہ گرا دیا گیا،برطانیہ میں گاندھی کا مجسمہ ہٹانے کے لیے ہزاروں لوگوں نے درخواستیں جمع کرا دیں اور مجسمے کا منہ بھی کالا کر دیا گیا اور نسل پرست لکھا گیا، https://youtu.be/09aVHoYniE4 اب مجسمے کو نقصان سے بچانے کے لیے حفاظتی دیوار بنا دی گئی ہے، امریکی دارالحکومت واشگنٹن میں بھارتی سفارتخانے کے باہر نصب گاندھی کے مجسمے پر بھی رنگ لگا دیا گیا اور اس مجسمے پر لکھا گیا ہے گاندھی ریپسٹ تھے یعنی کو عزتیں لوٹنے والا لکھا گیا ہے۔ دراصل گاندھی پر بھی سیاہ فاموں سے نسلی امتیاز برتنے کا الزام ہے جس کے تحت سکھ مذہب کے لوگ بھی ان کو اپنا ہیرو تسلیم نہیں کرتے گاندھی کو اپنا لیڈر صرف وہی لوگ مانتے ہیں جو ہندوتوا نظریے کے حامی ہیں یا دیگر مذاہب اور دوسری ذاتوں سے نفرت کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں