لاہور: کورونالاک ڈاؤن کے باعث بلدیہ عظمیٰ کو ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا مالی خسارہ ہو گیاجس سے آئندہ بجٹ 2020-2021 بنانے میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔ رواں مالی سال میٹروپولیٹن کارپوریشن کے آمدن کے 26 ذرائع میں سے ایک بھی مالی ہدف پورا نہ کرسکا،جس وجہ سے بجٹ کی تیاری میں افسروں کو پریشانی کا سامناہے ۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن آئندہ مالی سال کیلئے 2 ارب روپے آمدن میں کمی کی وجہ سے خسارے سے دوچارہے ۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں موجودہ سال 12ارب کے بجائے 10 ارب روپے کا مالیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب کے خسارے سے 2 ارب تک پہنچ سکتاہے تاہم نئی ترقیاتی سکیموں کی مد میں ایک ارب پچاس کروڑتک ہی مختص ہوسکیں گے ،غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 50 کروڑ روپے کے خسارے سے 8ارب روپے کی منظوری متوقع ہوگی ، غیر ترقیاتی اخراجات میں تنخواہوں کی مد میں 2 ارب 3 کروڑ 82 لاکھ رکھے جائینگے ۔متفرق اخراجات کی مد میں 6 ارب رکھنے کی تجویز ہے ،پی ایف سی کی مد میں ایک ارب 92 کروڑ 29 لاکھ 30 ہزار سالانہ بھی بجٹ میں شامل کر لئے گئے ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اپنے ذرائع آمدن کے 5 ارب 3کروڑ 8لاکھ 70 ہزار میں سے 2 ارب روپے اکٹھا کر سکی ،جاری ترقیاتی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے 16 کروڑ 52 لاکھ 45 ہزار کی منظوری دی جائیگی۔ ایم سی ایل ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 2 ارب 50 کروڑ کی منظوری دی جائے گی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پی ایف سی کے ترقیاتی شیئر کی ادائیگی ہی نہ صرف میٹروپولیٹن کارپوریشن کو خسارے سے بچاسکتی ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی ممکن ہوسکتی ہے ۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فنانس افسر یوسف سندھو کاکہنا ہے کورونا وبا کے پیش نظر آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارے میں ہوگا ،موجودہ صورتحال کے پیش نظر ٹیکس ریونیو ہدف پورا نہیں ہو سکا۔