بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کابینہ میں زیر بحث نہیں آئی، وفاقی وزیر غلام سرور خان اسلام آباد : بچوں سے زیادتی کے ملزمان کوسرعام پھانسی دینا پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کوسرعام پھانسی دینا ہماری پارٹی کی پالیسی میں شامل نہیں ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد نہ کابینہ میں زیر بحث آئی اور نہ ہی کسی اور فورم پر بات ہوئی۔یہ ذاتی خودنمائی کی کوشش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی ہے کہ قرارداد لانے سے پہلے کابینہ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی گئی تاہم قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے، اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی، پاکستان اقوام متحدہ کا سگنیٹری ہے،ایک اور کیس میں بھی سرعام پھانسی کا فیصلہ آیا تھا اس کا کیا ہوا۔وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ جب زینب الرٹ بل انسانی حقوق کمیٹی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کا مطالبہ آیا تو اس کی مخالفت کی گئی۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں ۔علی محمد خان نے کہاکہ حکومت اب بھی بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کا قانون بنانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن بتائے وہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کے بل کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔ علی محمد خان نے کہاکہ این جی اوز سرعام سزائے موت کی مخالف ہے۔ عمران خٹک نے کہاکہ بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام سزائے موت دینے کی قرارداد منظور کی جائے۔