پلاٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے سے متاثرین کی پریشانیاں کئی گنا بڑھ گئیں کئی متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں،کسی سیاسی و سماجی تنظیم نے پوچھا تک نہیں روہڑی : محکمہ آبپاشی کی جانب سے عدالتی احکامات پر دریا سندھ اور نہروں کے کناروں پر تجاوزات قرار دیکر مکانات، دکانیں ،گودام اور باڑے مسمار کرنے کے بعد روہڑی کے قریب ہائوسنگ سوسائٹیز اور علاقوں میں پلاٹوں کی قیمتیں اورمکانات کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔ روہڑی کے نواحی علاقوں اچھی قبیوں،پٹنی،کندھرا روڈ، علیواہن اور نیویارڈ میں پلاٹوں کی قیمتیں اور مکانات کے کرائے دگنے کردیے گئے ہیں جس سے متاثر ین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ کئی متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھنے پر مجبور ہیں اور سیاسی و سماجی تنظیمیں ان کی مدد کو نہیں پہنچ سکیں ، روہڑی دریا بندر پر موجود متاثرین نے بتایا کہ ہم نے ساری جمع پونجی لگاکر لالچ میں آکر سستا پلاٹ خریدا اور قرضہ لیکر مکان بنوایا تھا، اس وقت ہمیں تعمیر سے نہیں روکا گیا بلکہ محکمہ آبپاشی کا عملہ چائے پانی کا خرچہ بھی لے گیا۔ مکان بنائے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ہمارے آشیانے کو محکمہ آبپاشی نے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا اور ہم روتے ہی رہ گئے ۔ اب ہم بچوں کے ساتھ سخت سردی میں در بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے پلاٹ دینے کے اعلان کے باوجود متاثرین کا سروے تک شروع نہیں ہوا ہے تو پلاٹ کب ملیں گے ۔ متاثرین نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرین کو فوری پلاٹ دلوانے کے لیے صوبائی حکومت کو زمین کی منتقلی کی اجازت دے۔