تربوز وٹامن اے اور سی کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن کیا آپ اس کا میٹھا حصہ کھانے کے بعد اس کے سخت اور سبز چھلکے کو پھینک دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو ماہر غذائیت لوینیت بترا کا مشورہ ہے کہ ایسا ہرگز نہ کریں
ماہر غذائیت لوینیت بترا کے مطابق یہ چھلکا کھانے کے قابل ہے اور اس کا اچار بھی بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر لوگ سرخ حصہ کھا کر سفید چھلکا پھینک دیتے ہیں لیکن یہ درحقیقت غذائیت کا ایک چھپا ہوا خزانہ ہے۔
سوشل میڈیا پر انہوں نے اپنی ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا کہ تربوز کے اس حصے کو پھینکنا بند کریں یہ دراصل اس حصے سے زیادہ طاقتور ہے جسے آپ کھاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سفید حصے میں Citrulline پایا جاتا ہے، یہ ایک طاقتور امینو ایسڈ ہے جو پہلی بار تربوز میں ہی دریافت ہوا تھا، جسم میں جا کر یہ آرجینائن میں تبدیل ہو جاتا ہے جو آگے چل کر نائٹرک آکسائیڈ پیدا کرتا ہے۔