تازہ ترین

تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں 84ارب کٹوتی کی تیاری

تعلیمی-ترقیاتی-بجٹ-میں-84ارب-کٹوتی-کی-تیاری

لاہور :پنجاب میں مالی بحران کے باعث تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں 84ارب روپے کی کٹوتی کی تیاری کر لی گئی۔تفصیل کے مطابق مالی سال 2020-21 میں پنجاب کے تعلیم سے وابستہ 4محکموں نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 134 ارب مختص کرنے کی تجویز دی لیکن کورونا کے باعث مالی بحران سے حکومت نے شعبہ تعلیم میں کم بجٹ مختص کرنے کی ہدایات دی ہیں۔دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال 2020-21 میں پنجاب کے تعلیم سے وابستہ 4محکموں نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 134 ارب مختص کرنے کی تجویز دی لیکن پی اینڈ ڈی بورڈ کے ذرائع نے بتایا حکومت پنجاب نے ترقیاتی فنڈ 50 ارب روپے تک مختص کرنے کی تجویز دی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے محکمہ سکول ایجوکیشن کو 50 ارب روپے کے بجائے 12 ارب،محکمہ ہائر ایجوکیشن کو40ارب روپے کے بجائے 15 ارب روپے ملیں گے ۔محکمہ سپیشل ایجوکیشن کو1ارب اور محکمہ شرح خواندگی کو 7 ارب روپے کے فنڈ ملیں گے ۔ادھر محکمہ ہائر ایجوکیشن نے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے متعدد منصوبوں کیلئے جاری 10 کروڑ روپے کے فنڈز واپس لے لئے جس کی وجہ سے کئی منصوبے التوا میں پڑ گئے ۔ رواں مالی سال کے آغاز پر پی ایچ ای سی کی جانب سے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا جن میں ٹیچر زٹرنینگ پروگرامز، ریجنل اکیڈمیز ، کمیونٹی کالجز میں توسیع ،بین الاقومی ریسرچ پروگرام ،اور پی ایچ ڈی سپلٹ پروگرام کے طلبہ کو سکالر شپس دینے تھے ۔ پی ایچ ای سی کی جانب سے سکالرز کے انٹرویوز بھی کرلئے گئے تاہم اب انہیں سکالر شپس کیلئے انتظار کا کہا گیا ہے ۔حکومت کی جانب سے اس سال پہلے ہی پی ایچ ای سی کے بجٹ میں نصف کمی کردی گئی تھی اوریہ بجٹ بھی مکمل نہیں دیا گیا ۔ بجٹ واپس لینے سے بہت سے کنٹریکٹرزکے واجبات بھی موخر ہوگئے ۔ اس حوالے سے جامعات کے اساتذہ کا کہنا ہے ایک طرف ایچ ای سی نے جامعات کے بجٹ میں کٹ لگایا ہے تو دوسری طرف پی ایچ ای سی کے بجٹ کو بھی واپس لے لیا گیا ہے ، لگتا ہے کہ تعلیم موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، جامعات کے بجٹ میں کٹوتی کی جائے گی تو نیا علم کہاں سے آئے گا اور نہ ہی تحقیق ہوسکے گی ۔محکمہ ہائر ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے اب اگلے مالی سال میں کمیشن کو فنڈز دئیے جائینگے ۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں