جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور مرکزی ملزم طارق محمود کو فوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ ملزم طارق محمود کو1 لاکھ روپے کےضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامرفاروق نےطارق محمود کو فوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنا دیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم طارق محمود کو1 لاکھ روپے کےضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے عدالت کو کیس کے حوالے سے مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کس نے بلیک میلنگ کی؟ کس نے کس کو بلیک میل کیا؟ کیا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ طارق محمود نے جج کو بلیک میل کیا۔ ایف آئی اے افسر نے جواب دیا کہ ارشد ملک کے ملازمین نے بیان دیا کہ طارق محمود نے جج کو ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیا۔عدالت نے ایف آئی اے سے مزید استفسار کیا کہ ارشد ملک نے اپنے بیان میں کیا کہا؟ بلیک میل کیسے ہوا؟ کیا جج بلیک میل ہو گیا؟۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس آدمی کو کتنےعرصے سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ 10 ماہ سے طارق محمود اڈیالہ جیل میں قید ہے۔اس پر ایف آئی اے تفتیشی افسر کو جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ آپ کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود نہیں؟ ۔ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا آپ نے ویڈیو دیکھی۔ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو دیکھی ہے،جج غیر اخلاقی حالت میں ہے اوراُن کی ویڈیو بن رہی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اس میں جج بھی قصور وار ہے،ایف آئی اے کی فرانزک رپورٹ اور جج کا بیان ہے کہ ویڈیو درست ہے،میاں طارق کے خلاف کیا ثبوت ہے؟۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم نے جج کو بلیک میل کیا تو ثبوت کدھر ہیں؟ آپ کی رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں،آپ نے ٹرائل میں ثبوت پیش کرنا ہیں، وہ ثبوت عدالت کو دکھائیں؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سےگواہان کے بیانات موجود ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نےریمارکس دئیےکہ آپ کے پاس بیانات کےعلاوہ کچھ بھی نہیں،آپ نے ملزم کو سزا دلوانی ہے،وہ کس بنیاد پر دلوائیں گے۔عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد ملزم کی ضمانت بعدازگرفتاری منظور کرلی۔ واضح رہے کہ میاں طارق محمود پرجج ارشد ملک کی 2003 میں نازیبا ویڈیوبنانےکا الزام ہے۔ میاں طارق محمود کو ایف آئی اے نے گذشتہ برس ملتان سے گرفتار کیا تھا۔