تازہ ترین

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی اہلخانہ کو قتل کی دھمکیوں کے خلاف شکایت

جسٹس-عیسیٰ-کی-اہلیہ-کی-اہلخانہ-کو-قتل-کی-دھمکیوں-کے-خلاف-شکایت

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے پولیس کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے خاندان کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے پولیس سے اپنے اہلخانہ کو دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے اپنی شکایت میں کہا کہ ' میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہوں جو سپریم کورٹ کے جج ہیں اور انہیں قتل کی دھمکی دی گئی ہے'۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا کہ ایک شخص نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے شوہر کو سرعام گولی ماری جائے۔ انہوں نے اپنی شکایت کے ساتھ دھمکی آمیز ویڈیو پیغام پر مشتمل یو ایس بی بھی جمع کروائی۔ یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کیس کی 30 مارچ کو مقرر کردہ سماعت ملتوی کردی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ انٹرنیٹ پر ان کے شوہر کو دھمکی دینے والے شخص کا نام آغا افتخار الدین مرزا آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے 2 دستاویزات کے پرنٹ آؤٹس نکالے تھے جو ویڈیو میں ظاہر ہونے والے لنکس سے حاصل کیے تھے لیکن وہ نہیں جانتی کہ یہ اس شخص کا اصل نام تھا یا نہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں بہت سے طاقتور لوگ میرے شوہر سے خوش نہیں اور مجھے شبہ ہے کہ یہ قتل کی دھمکی ان حالات کا تسلسل ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں'۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد شدید بیمار ہیں اور وہ ایک طویل عرصے بعد اپنے گھر سے باہر نکلیں۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ ' میں اپنے شوہر کو کھونا نہیں چاہتی'۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے شکایت میں کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کو قتل کی دھمکی دینا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی طاقتور لوگ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور یہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ ان افراد کو تلاش کرکے گرفتار کرے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔ صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔ ریفرنس دائر ہونے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے۔ بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل میں 14 جون 2019 کو اس معاملے پر پہلا اجلاس ہوا تھا اور سماعت کی سربراہی اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کی تھی اور ان کے ہمرای کونسل کے 5اراکین شامل تھے۔ 14 جون کی سماعت کے بعد جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کو صدارتی ریفرنس کی نقول فراہم کر کے ان سے الزامات پر جواب طلب کیا گیا تھا،بعد ازاں 12 جولائی کو ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد ریفرنس کے حوالے سے انہیں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم جسٹس عیسیٰ کویہ نوٹس 17 جولائی کو موصول ہوا تھا جس میں انہیں 15 روز میں جواب دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بعد ازاں 7 اگست 2019 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا اور 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔ جس کے بعد 26 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ جس کے بعد مذکورہ معاملے پر پہلے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا،تاہم یہ بینچ 17 ستمبر کو اس وقت تحلیل ہوگیا تھا جس کے ساتھ ہی بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا اور بعدازاں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ بعدازاں 19جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو منظور کرلیا تھا یہ معاملہ گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک تقریباً 13 ماہ تک چلا تھا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں