حمزہ شہباز کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والے مشتاق چینی کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والے مشتاق چینی کی درخواست ضمانت منظور کر لی ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بینچ نے مشتاق چینی کی درخواست ضمانت پر سماعتکی۔مشتاق چینی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نیب کی جانب سے کرپشن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا، حمزہ اور سلمان شہباز کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر بیان رکارڈ کروا دیا ہے، لہٰذا اب مجھے ضمانت دی جائے۔ جس پر عدالت نے مشتاق چینی کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ یاد رہے کہ مشتاق چینی کو دبئی فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد مشتاق چینی کو نیب نے اپنی حراست میں لے کر منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کا آغاز کر دیا تھا۔ مشتاق چینی نے حمزہ شہباز کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مشتاق چینی کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اورسلمان شہباز نے رمضان شوگرملزکے معاملات دیکھنے کا کہا۔ حمزہ شہبازاورسلمان شہباز کےساتھ 2005ء سے میں کاروبارکررہا ہوں، سلمان شہباز نے 2 مفروضہ معاہدے برائے قرض تیارکروائے۔ایک معاہدے میں لکھا گیا کہ میں نے 31 کروڑبطورقرض دئے۔ دوسرا معاہدہ میرے اورمیرے بیٹے یاسر مشتاق کے مابین لکھا گیا۔ معاہدے کے تحت میرے بیٹے نے سلمان شہبازکو 30 کروڑقرض دیا، یہ دونوں معاہدے فرضی تھے اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جورقم سلمان شہباز کوبھیجی وہ ان کی ہی تھی۔ مشتاق چینی کا مزید کہنا تھا کہ ان مفروضی قرضوں کوحقیقی رنگ دینے کے لیے سلمان شہبازنے رقم منتقل کی تھی۔ سلمان شہبازنے 10 کروڑہماریکمپنی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے تھے۔مشتاق چینی سے کی جانے والی تفتیش اور اس تفتیش کے نتیجے میں ہونے والے انکشافات کی بنیاد پر حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں نیب کو مزید مدد ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔