اسلام آباد: حکومتی احکامات کی روشنی میں آج شہر کی چھوٹی مارکیٹیں کھل گئیں، 47 روز بعد تاجر نے دکانوں کے شٹر اٹھالئے، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، ہوٹل، میرج ہالز، سینما، عوامی اجتماعات، کھیلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بدستور پابندی برقرار ہے۔ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کاروبار کی اجازت ہوگی۔ گراسری سٹور، جنرل سٹور، بیکری، آٹا چکی، تنور، گوشت، دودھ، پھل و سبزی کی دکانوں کے ساتھ اب سٹیل، پی وی سی پائپ، بجلی کی مصنوعات، ہارڈ وئیر سٹورز کی دوکانوں پر کاروبار ہوگا۔ ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی برقرار ہوگی۔ پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن نرمی کرتے ہوئے 31 مئی تک کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ہفتے میں چار روز پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو کاروبار ہوگا۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار تین روز شٹر ڈاؤن ہو گا، ڈاک خانہ، کورئیر سروس پورا ہفتہ ہی کام کرینگے۔ شہریوں نے حکومت کے نئے حکم پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔ ادھر انتظامیہ اور پولیس بھی حکومتی ایس اوپیز پر عمل درآمد کروانے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز فیصل شہزاد کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کاروبار ضرور کرے لیکن احتیاطی تدابیر بھی اپنانا ضروری ہیں۔ سندھ حکومت کے حکم پر کراچی میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی، شہر کی مارکیٹیں کھل گئیں، کورونا سے بچاؤ کے احتیاطی اقدامات اپناتے ہوئے دکانداروں نے 50 روز بعد دکانوں کے شٹر اٹھا دیئے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے نوٹیفکیشن کے مطابق صبح 6 کے بعد آہستہ آہستہ مارکیٹیں کھلنا شروع ہوئی۔ صدر، طارق روڈ، زینب مارکیٹ، حیدری اور لیاقت آباد سمیت دیگر مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں، اس کے علاوہ چھوٹی مارکیٹیں بھی کھل گئی، دکاندار بھی کورونا بچاؤ اقدامات پر عمل کرتے دیکھائی دیئے۔سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کاروبار کھولنے کی اجازت مشروط طور پر دی ہے، دکاندار اور خریدار حکومتی ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ کورونا سے بچا جاسکے۔