فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ نہیں کر سکے، وسیم اختر منتخب بلدیاتی نمائندے شہر کے گلی کوچوں سے واقف ہیں، حکومت ساتھ ملائے تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے، میڈیا سے گفتگو کراچی : میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نظر انداز کررہی ہیں ، سندھ حکومت ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تنخواہوں کے فنڈز نہیں دے رہی اس لئے ہم تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ نہیں کرسکے ، اگر ملازمین نے احتجاج کیا تو میں خود اس کی قیادت کروں گا۔ یہ بات انہوں نے شاہین کمپلیکس سے ٹاور تک لکویڈ اسپرے مہم کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے باعث حکومت مشکلات میں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ان مشکلات میں مزید اضافہ ہو لیکن بار بار خطوط لکھنے اور کہنے کے باوجود تنخواہوں کے حوالے سے فنڈز مہیا نہیں کئے جا رہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سیز اپنی اپنی سطح پر فعال ہیں اور شہریوں کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے اسپتالوں میں پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز اس وقت فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں اور شہریوں کی جانیں بچا نے میں پیش پیش ہیں، اگر انہیں تنخواہ کا مسئلہ در پیش ہوگا تو وہ کس طرح اپنے فرائض تندہی اور سکون سے انجام دیں گے ، کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر شہر کی بڑی بڑی شاہراہوں، فوڈ اسٹریٹس، مصروف ترین سڑکوں کے علاوہ یوسی کی سطح پر گلیوں اور چھوٹے بازاروں میں اسپرے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے کے ایف کو مخیر حضرات کی جانب سے راشن کی صورت میں عطیات موصول ہورہے ہیں جنہیں شہریوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندے ہی شہر کے گلی کوچوں سے واقف ہیں حکومت اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ملائے اور ان سے کام لے تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ یہ مقامی سطح پر کام کرتے ہیں اور گلی محلوں کا ڈیٹا ان کے پاس موجود ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ ان مشکل حالات میں سیاست کے بجائے سب کو ساتھ لے کر چلا جائے تاکہ کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔