تازہ ترین

حکومت کو29سو ارب روپےقرضہ اداکرناہے،معيشت کو3ہزارارب روپےکا نقصان،مشیرخزانہ

حکومت-کو29سو-ارب-روپےقرضہ-اداکرناہے،معيشت-کو3ہزارارب-روپےکا-نقصان،مشیرخزانہ

مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معاشی لحاظ سے یہ ایک مشکل سال تھا،کرونا کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،نیا بجٹ لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے ہے، اس سال حکومت کو 2900 ارب روپے قرضہ ادا کرنا ہے،کرونا سے ہماری معيشت کو 3000 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ حماد اظہر نے واضح کردیا کہ اس سال پوری توجہ نوکریاں بچانے اور اگلے سال روزگار پیدا کرنے پر ہوگی۔ اسلام آباد میں ہفتے کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے بجٹ کےاہم نکات کے حوالے سے بتایا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 9 ماہ ميں حکومت نے معاشی کاميابياں حاصل کيں،پاکستان تحریک انصاف کو قرضوں کی مد ميں 5ہزار ارب روپے واپس کرنا پڑے،حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کا فيصلہ کيا اور اسٹيٹ بينک سے ايک پيسہ ادھار نہيں ليا، پہلی بار حکومتی اخراجات آمدن سے کم رکھے گئے۔ مشير خزانہ نے پیش گوئی کی کہ کرونا سے دنیا میں 4 فیصد آمدن گرے گی اور پاکستان پر بھی اثرات آئیں گے،کرونا سے معیشت کو 3 ہزارارب روپے کا نقصان ہوا،کرونا سے ٹیکس محاصل میں 700 ارب روپے نقصان ہوا،ہم 4700 ارب روپے تک پہنچ سکتے تھے لیکن بمشکل 3900 ارب روپے تک ہی پہنچے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دُکانیں، صنعت،انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ بند ہوئی،بے روزگاری اورغربت میں اضافہ ہوا۔ مشیرخزانہ نے مزید کہا کہ حکومت نے 1200 ارب روپے کا پیکج دیا،1 کروڑ 60 لاکھ خاندانوں تک کیش پہنچانے کا فیصلہ کیا اور اب تک ایک کروڑ سے زیادہ افراد کی مدد کرچکے ہیں،10 کروڑ پاکستانیوں کواس سے فائدہ ہوگا۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ ٹيکسز کی تعداد ميں 17 فيصد اضافہ ہورہا تھا،ہم نے جان بوجھ کر امپورٹ کو کم کيا،حکومت 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 3 ارب ڈالر پر لائی،کمزور طبقےکی مدد کيلئے ہم نے 200 ارب روپے رکھے،نان ٹيکس ريونيو کا  1100 ارب روپے کے ہدف کے مقابل 1600 ارب روپے حاصل کيے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ايم ايف، موڈيز، بلوم برگ نے پاکستان کی تعريف کی،دنيا کی پرائيوٹ کيپيٹل پاکستان آئی،کرونا وائرس کی وجہ سے معيشت کو نقصان پہنچنا شروع ہوا لیکن وائرس کا بہانہ نہيں کياجارہا،پوری دنيا ميں آمدنی 4 فيصد گرے گی،ابھی تک کسی کو نہيں پتہ کرونا ميں کتنی شدت آئے گی اور یہ کب تک چلے گی۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت قرض اس لیئے نہیں لے رہے کہ عیاشی کا شوق ہے، ماضی کے قرضے واپس کرنے کیلئے قرض لے رہے ہیں،نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،ترقیاتی بجٹ کیلئے 650 ارب روپے رکھے گئے ہیں،1200 ارب روپے کے پیکج سے جو رقم بچے گی اس کو اگلے سال خرچ کریں گے۔ انھوں نے دُہرایا کہ نیا بجٹ ریلیف کا بجٹ ہے،ٹیرف لائنز پر ایک ٹکہ بھی ڈیوٹی نہیں ہوگی،صنعت کیلئے ہزاروں خام مال مصنوعات پر ڈیوٹی صفر کی جارہی ہے،مقصد برآمدات اور صنعت کی ترقی ہے،مزید 200 ٹیرف لائنز میں ڈیوٹی کو کم کیا جارہا ہے،166 ٹیرف لائنز پرریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کیا جارہا ہے،ہرقسم کے ودہولڈنگ ٹیکس کوختم کیا جارہا ہے،درآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی،تعمیراتی شعبے کیلئے پیکیج اور کیپٹل گینز ٹیکس نصف کیا جارہا ہےِ،سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں 25 پیسے کی کمی کی جارہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تمام بڑی دُکانوں کا ایف بی آر سے ڈائریکٹ لنک ہونا چاہئے،بڑے ری ٹیلرز پر سیلز ٹیکس 14 سے کم کرکے 12 کردیا ہے۔مشیر خزانہ نے واضح کردیا کہ حکومت اپنے پاس سے روزگار نہیں دے سکتی، نجی شعبے کیلئے آسانی پیدا کی گئی ہے، ہم لوگوں کی جيبوں ميں ہاتھ نہيں ڈالنا چاہتے، پاکستانيوں کو معاشی سرگرميوں کا محور سمجھتے ہيں، ہميں پاکستان کےلوگوں نےيہاں بٹھاياہے،انہيں کامفادديکھناہے۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بتایا کہ موبائل فونز کے حوالے تفصیلات کا جلد اعلان کر دیں گے،معیشت میں استحکام سے ہی نوکریاں ملیں گی، ایز آف ڈوینگ بزنس مین میں اس سال بھی بہتری آئے گی۔ انھوں نے بتایا کہ کرونا کے باوجود ترقیاتی بجٹ بڑھایا جارہا ہے،ایس ایم ایز کیلئے 50 ارب کا پیکیج دیا گیا جبکہ نوکریاں نجی شعبے سے ہی آنی ہیں۔ حماد اظہر نے واضح کردیا کہ اس سال پوری توجہ نوکریاں بچانے اور اگلے سال روزگار پیدا کرنے پر ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں