ملزمان نے مقتول کی نعش بوری میں بند کر کی2روز تک گھر کی چھت پر رکھے رکھا، پولیس نے سگے بیٹے، بہو اور ان کے ساتھی سمیت 3ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا لاہور: خون سفید ہوگیا، معمولی گھریلو ناچاقی پر بیٹے نے بیوی کیساتھ مل کر والد کو قتل کر ڈالا، ملزمان نے مقتول کی نعش بوری میں بند کر کی2روز تک گھر کی چھت پر رکھے رکھا، پولیس نے سگے بیٹے، بہو اور ان کے ساتھی سمیت 3ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی ہدایات پر ایس پی سٹی انویسٹی گیشن توحید الرحمن میمن کی سربراہی میں انچارج انویسٹی گیشن شفیق آباد نثار احمدنے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے 72سالہ بزرگ شہری نذیر احمدکے اندھے قتل کی واردات میںملوث اس کے سگے بیٹے ارشد، بہوکرن اور ان کے ساتھی خرم شہزاد عرف عباس کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: کراچی جائیداد کے تنازع پر بھائیوں نے بہن کی جان لے لی مقتول کے بیٹے ارشد نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر معمولی گھریلو ناچاقی کی رنجش پر سگے باپ نذیر احمد کوقتل کر دیا تھا۔ملزمان نے مقتول کی نعش بوری میں بند کر کی2روز تک گھر کی چھت پر رکھے رکھا ۔ اس دوران ملزمان نے قتل کی واردات کو اغواء کا رنگ دینے کے لیے تھانہ شفیق آباد میں مقتول نذیر احمد کے اغواء کا مقدمہ درج کروادیا تھا تا کہ کوئی ان پر شک نہ کرے۔ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے ملزمان نے اپنے ساتھی ملزم خرم شہزاد عرف عباس کی مدد حاصل کی اور بوری بند لاش کو موٹر سائیکل پر لاد کر گھر کے قریب خالی پلاٹ میں پھینک کر خودخاموشی سے فرار ہو گئے تھے ۔ملزمان کی نشاندہی پر آلہ قتل ڈنڈا، خون آلود کپڑے اور موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن محبوب رشید میاں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اندھے قتل کی سنگین واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔