لاہور: محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی فلور اور نان بائی ایسوسی ایشنز سے مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے گندم،آٹا،روٹی اور نان کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن نہ ہو سکا۔ آٹا 8 روپے کلو،گندم500 روپے من، روٹی 2، نان 3 روپے ازخود مہنگا کیا گیا۔شہری مہنگائی کی چکی میں پھنس کر رہ گئے ۔گندم کی سرکاری قیمت 1400 روپے من ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں ازخود اضافے کے ساتھ 1800سے 1900روپے ہے ۔آٹا کی سرکاری قیمت 40روپے 25 پیسے کلو ہے لیکن فلور ملز ایسوسی ایشن نے 8 روپے بڑھا کر 48 روپے کلو کر دی ۔ روٹی کی سرکاری قیمت 6 اور نان کی 12روپے ہے ۔متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن کی طرف سے روٹی کی قیمت 8 اورنان کی 15 روپے کر دی گئی حالانکہ اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ محکمہ خوراک ایسوسی ایشنز کی طرف سے قیمتوں میں ازخود اضافے کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔اسی طرح ضلعی انتظامیہ روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے سے قاصر ہے ۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے جب تک گندم سستی نہیں ملے گی آٹا سستا نہیں بیچ سکتے ۔متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب گل کا کہنا ہے آٹا سستا ہونے تک روٹی سستی نہیں بیچ سکتے ۔ ڈپٹی کمشنر دانش افضال کا کہنا ہے محکمہ خوراک کی طرف سے آٹا کی قیمتوں میں پالیسی وضع ہونے کے بعد نان روٹی کی قیمت سامنے آئے گی ۔سیکرٹری فوڈ وقاص علی محمود کا کہنا ہے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں،آٹاکی نئی قیمتوں بارے پالیسی وضع کر کے آج وزیر خوراک کو آگاہ کیا جائیگا۔