اسلام آباد: سپریم کورٹ نے امل عمر ہلاکت کیس میں سندھ ہیلتھ کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت دیدی ہے، جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین سندھ ہیلتھ کمیشن سے کہاکہ عدالتی حکم کے بعد آپکے لوگ لوگوں پر دبائو ڈال رہے ہیں، اگر آپکی جانب سے کوئی غیر قانونی دبائو ثابت ہوا تو پورے محکمے کو ختم کردینگے، آپ لوگوں کیخلاف سنگین الزامات ہیں، اگر ثابت ہوا تو عدالت کوئی رعایت نہیں برتے گی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور وزیراعلیٰ کی جانب سے امل عمر کے والدین کو 2010 کی پالیسی کے مطابق معاوضہ دینے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ نےموقف اختیار کیا کہ سندھ ہیلتھ کمیشن کی جانب سے رپورٹ کراچی میں جمع کرادی گئی ہے، جامع رپورٹ کیلئے عدالت ایک دن کی مہلت دے، امل عمر کے والدین کے وکیل نے کہاکہ سندھ حکومت کی جانب سے جو معاوضہ دیا جارہا ہے اسے قبول کرنا امل کے والدین کیلئے شرمناک ہوگا، دور ان سماعت آئی جی سندھ بھی پیش ہوئے۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیاکہ جن پولیس اہلکاروں کی وجہ سے امل کی جان گئی ان کیخلاف کیا کارروائی کی گئی ہے ؟ انہوں نے بتایاکہ اہلکاروں کو معطل کرکے ان کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے اور ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے۔