تازہ ترین

سینیٹرز کی فنانس بل میں 2 کمپنیوں کو خصوصی فائدہ پہنچانے کی مخالفت

سینیٹرز-کی-فنانس-بل-میں-2-کمپنیوں-کو-خصوصی-فائدہ-پہنچانے-کی-مخالفت

اسلام آباد: سینیٹ پینل نے فنانس بل 21-2020 کے ذریعے گوادر میں چلنے والی 2 کمپنیوں کے نام سے انہیں ٹیکس فوائد پہنچانے کی مخالفت کردی جبکہ کچھ اراکین نے اسے ' بیہودہ، مضحکہ خیز اور چونکا دینے والا' قرار دیا۔ انہوں نے بارہا پوچھا کہ ' ان کمپنیوں کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ کسی کمپنی کا نام قانون میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟'۔ سینیٹر فاروق حامد نائیک کی سربراہی می قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو نے یہ اصول بھی طے کیا کہ آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت کسی شق کو فنانس بل میں شامل کرنے کی منظوری نہیں دے گا اگر وہ کسی ٹیکس کے نفاذ، خاتمے، معافی یا رد و بدل سے متعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو بل میں کوئی چیز شامل کرنے کی بھی اجازت نہیں دینی چاہیے اگر اس میں کسی جرمانے کا نفاذ یا تبدیلی یا کوئی دیگر جرمانہ یا لائسنس فیس کی ادائیگی یا مطالبہ یا کسی خدمات کی فیس یا کوئی ٹیکس مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں۔ کمیٹی اراکین نے کسٹمز قوانین ( شق i-a/19-3) میں آلات اور مواد بشمول پلانٹ، مشینری اور مراعات رکھنے والوں کی جانب سے درآمد کردہ سامان، ان کی آپریٹنگ کمپنیوں بشمول گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ اور گوادر میرین سروسز، ان کے کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز خصوصاً تعمیراتی، ٹرمینلز اور فری زون ایریا کے آپریشن کے لیے 40سال کی مدت تک کسٹمز ڈیوٹیز پر استثنیٰ سے متعلق مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی۔ موجودہ کسٖٹمز قوانین کے تحت استثنی موجود ہے لیکن ان دونوں کمپنوں کے نام خاص طور پر شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے ان کمپنیوں کا نام لیے بغیریاد دلایا کہ سینیٹ پینل میں اسی طرح کی شق پیش کی گئی اور اسے مسترد کردیا گیا تھا کیونکہ کسی کمپنی کو ایسی سہولت فراہم نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ' قانون میں کسی کمپنی کو نام سے ٹیکس سہولت دینا بیہودہ ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ 'یہ چونکا دینے والا ہے'۔ سینیٹرز نے کہا کہ گوادر میں ایسے آلات اور مشینری کے مخصوص استعمال کو محدود کرنا ناممکن ہے۔ مصدق ملک نے پوچھا کہ اس بات کی یقین دہانی کے لیے کیا طریقہ کار ہے کہ گوادر کے لیے ڈیوٹی استثنیٰ سے درآمد ہونے والا ٹرک ساہیوال یا حیدرآباد کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اور ان کے ذیلی کنٹریکٹرز جنرل ضیا الحق سے زیادہ اہم معلوم ہوتے ہیں جن کا نام آئین میں لکھا ہے۔ سینیٹر شیری رحمٰن نے کمپنیوں کے مالکان یا ان کے ذیلی کنٹریکٹرز سے متعلق جاننا چاہتی تھیں، انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ قانون میں استثنیٰ پہلے ہی موجود ہے لیکن اسے کمپنی کے لیے مخصوص بنایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ کنٹریکٹرز اور ذیلی کنٹریکٹرز ایک خاندان کے ' قریبی اور عزیز 'ہیں جو 2 دہائیوں سے بزنس کا تحفظ چاہتے ہیں ، یہ مضحکہ خیز ہے۔ کسٹمز کے اراکین نے کہا کہ یہ ترمیم وزارت بحری امور کی جانب سے گوادر کی بندرگاہ پر حکومت سے حکومت معاہدے کی بنیاد پر پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سے متعلق قانون میں تبدیلی کے لیے وزارت کی جانب سے کابینہ میں سمری ارسال کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں کمیٹی اراکین نے فری زون ایریا کے لیے جولائی 2016 سے 23 سال کے لیے کاروباروں جیسا کہ پیکجنگ، تقسیم، اسٹفنگ، ڈی اسٹفنگ، سی ایف ایس، کنٹینر یارڈ، ویئر ہاؤسنگ، ٹرانس شپمنٹ، لیبلنگ، درآمد اور برآمد کی ویلیو ایڈیشن سے متعلق ٹیکس استثنیٰ کی ترمیم کی بھی مخالفت کردی۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں