سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے کپتان کی دوران پرواز ضابطوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن افتخار احمد نے پی آئی اے کے شعبہ سیفٹی کے جنرل مینیجر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرولر لینڈنگ سے متعلق کپتان کو ہدایت دیتا رہا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کپتان نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ خط کے متن کے مطابق طیارہ کنٹرول زون اپروچ پوائنٹ پر تھا تو طیارے کی بلندی زیادہ تھی۔ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے کپتان کو وارننگ دی کہ بلندی زیادہ ہے،طیارہ سات ناٹیکل میل پر تھا تو طیارے کی اونچائی 5ہزار دوسو فٹ تھی جو کہ اپروچ پروفائل سے زیادہ تھی۔ خط کے مطابق کنٹرولر نے دومرتبہ کپتان کو ہدایت کی کہ طیارے کو بلندی پر قابو رکھنے کے لیے بائیں جانب180ڈگری پر لے جائیں لیکن کپتان نے ائیر کنٹرول کی ہدایت کو نظر انداز کردیا۔ خط متن کے مطابق کپتان کو ہدایت دی گئی کہ اپروچ کیلئے جہاز کومطلوبہ بلندی تک لے کر آئیں۔ طیارہ کی بلندی 3ہزار5 سو فٹ کی بلندی پر تھا جس کے بعد طیارہ چار ناٹیکل تیرہ سو فٹ پر آگیا،اترنے کی رفتار دو سو پچاس ناٹ سے زیادہ تھی،جوکہ لینڈنگ کیلئے درکار مطلوبہ رفتار سے زیادہ تھی۔ واضح رہے کہ انسٹرومنٹ اپروچ یا انسٹرومنٹ اپروچ پراسیجر طیارے کو زمین پر اتارنے کے طریقہ کار کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے اور اپروچ پوائنٹ سے مراد وہ نقطہ ہے جہاں پہنچ کر لینڈنگ کے لیے طیارے کو ایک مخصوص بلند پر لانا ہوتا ہے۔ خیال رہے پی آئی اے کا طیارہ 22 مئی کو کراچی میں حادثے کا شکار ہوا جس میں عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور 2 مسافر خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔