لاہور: امریکی خاتون سنتھیارچی نے کہا ہے کہ عدالت میں تحقیقات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، رحمان ملک نے مجھے فون کرکے بلایا، ڈرائیور نے بڑی گاڑی میں پِک کیا، گلدستہ دیا اور مشروب پلایا، واپسی پر اتنی مدہوش تھی کہ چلنا مشکل تھا، رحمان ملک نے ڈراپ کرنے والے ڈرائیور کو2 ہزار پاؤنڈز دیے۔ امریکی خاتون نے بتایا کہ میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر لگائے گئے الزامات پر قائم ہوں۔میں عدالت میں جاکرتحقیقات کا سامنا کرنے اور تمام الزامات کا جواب دینے کیلئے تیار ہوں، میں پاکستان میں ہی ہوں، کہیں نہیں جا رہی۔ میرے ایک انٹرویو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید سابق وزیرصحت شہاب الدین نے مجھے باربار مساج دینے کی کوشش کی، مگر ایسا نہیں ہے۔ جس کے بعد میں نے رپورٹر سے رابطہ کیا اور حقیقت بتائی اب رپورٹر نے اپنی تصیح کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے وزیرصحت شہاب الدین کے ساتھ بہت اچھے قریبی تعلقات تھے۔جب پیپلزپارٹی نے 2010ء میں اپنے ساتھ کرنے کیلئے میری مدد کی،ہراسانی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہاب الدین نے میرے کندھے پر مساج کرنے کی کوشش کی۔ میرے لیے یہ غیرمتوقع تھا میں نے انہیں دور رہنے کا کہا ،یہ بات یہیں تک تھی۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بیان دیا کہ ان کی میرے ساتھ ملاقات ایک سفارتی تقریب میں ہوئی۔جبکہ یہ بات سچ نہیں ہے، جب یوسف رضا گیلانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا تو میری ان کے ساتھ ایوان صدر میں ملاقات ہوئی تھی۔اس وقت کمرے میں کچھ امریکی اور دیگر لوگ بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ میں دس سالوں سے پاکستان آجا رہی ہوں۔ سنتھیارچی نے کہا کہ میں خاص طور پر اگر سابق وزیرداخلہ اور سابق وزیر اعظم کی بات کروں تو لاگ بکس مرتب کی جاتی ہیں، ایجنسیز آسانی سے بتا سکتی ہیں کہ ایوان صدرکون کس وقت آیا اور کس وقت گیا۔ جب یوسف رضا گیلانی سے ملی اس وقت دیگر چار لوگ بھی موجود تھے۔ہم نے متعدد موضوعات پر بات کی، جب ہم رخصت ہونے لگے توانہوں نے غیرمناسب طریقے سے مجھے گلے لگایا۔ میں پیچھے ہٹ گئی ، جبکہ کمرے میں موجود باقی لوگ ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ ماننا ہے یوسف رضا گیلانی نے میرے ساتھ جو کیا جان بوجھ کر کیا۔مجھے آن لائن بھی ہراساں کیا جاتا رہا۔ امریکی خاتون نے کہا کہ رحمان ملک نے مجھے ویزے کیلئے بلایا، ان کے ڈرائیور نے مجھے بڑی گاڑی میں پک کیا۔ رحمان ملک نے مجھے گلدستہ دیا اور مشروب پلایا، مشروب پلانے کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا، رحمان ملک نے مدہوش کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واپسی پر اتنی مدہوش تھی کہ چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ رحمان ملک نے مجھے گاڑی پر ڈراپ کروایا۔ڈراپ کرنے والے ڈرائیور کو دو ہزار پاؤنڈ زبھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکی سفارتخانے کو بھی شکایت کی لیکن کوئی رسپانس نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں بھی میرے روابط ہیں، 10سال بعد بات کرنے کے اس لیے قابل ہوئی کہ آج پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے دوسال سے پی ٹی ایم کے بارے ریسرچ کررہی ہوں،اس میں مجھے خفیہ اداروں نے سپورٹ بھی کیا، مجھے پی ٹی ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان تانے بانے ملے ہیں۔