اسلام آباد: عدالت نے نواز شریف کیس میں 4 آپشنز رکھ دئیے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزامعطلی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کیس میں ہمارے پاس چار آپشن ہیں۔نمبر ایک نواز شریف کی مستقل ضمانت منظور کر لیں۔نمبر 2،مخصوص مدت کے لیے ضمانت دے دیں۔نمبر3، کیس پنجاب حکومت کو بھیج دیں۔نمبر 4،نواز شریف کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ڈاکٹرز صرف کوشش ہی کرتے ہیں۔ جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کے میڈیکل بورڈ سے نئی میڈیکل رپورٹ طلب کی جو میڈیکل بورڈ نے عدالت کے سامنے پیش کر دی۔ دوران سماعت سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور عدالت کو نواز شریف کی طبیعت سے متعلق آگاہ کیا۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو جیل میں قیدیوں سے متعلق جاننے کے لیے بلایا ہے۔کچھ چیزیں پنجاب سمیت تمام صوبوں کےلیے توجہ طلب ہیں۔ قانون کی شقیں ہیں جس میں مریض قیدی کا خیال رکھا جانا چاہئیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عثمان بزدارکی جانب سے عدالت میں پیش ہونے کی تعریف کرتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں عدالتی حکم پر پیش ہوا ہوں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی طبی حالات پر وفاق سے بھی رپورٹ طلب کی تھی۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کے تو درخواست دائر کر دی۔ بہت سے بیمار قیدی عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ بہت سے لوگ ہیں جنہیں اپنے حقوق کا علم نہیں ہے۔مہلک بیماریوں میں مبتلا تمام قیدیوں کے لیے راہ دکھانا چاہتے ہیں۔عثمان بزدار صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کے پاس اختیارات ہیں، دیکھیں جیل میں کتنے لوگ بیمار ہیں اور ان کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ جیل میں بہت سے مسائل ہیں۔ایک سال میں آٹھ جیلوں کا دورہ کیا ہے۔ میں پہلا وزیراعلیٰ ہوں جو جیل جا رہا ہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جیلوں میں نہیں بلکہ جیلوں کا وزٹ کرنے جا رہے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نواز شریف کا علاج جاری ہے، اُن کو بہترین طبی امداد دی جا رہی ہے۔