مسلمانوں کے ابتدائی معاشرے میں مساجد ہی وہ مراکز تھے جہاں اہم فیصلے ہوتے تھے مظفرآباد : آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ مساجد کا کھویا ہوا سماجی و سیاسی مقام بحال کرنے اور مسجد کو ایک بار پھر عمرانی اکائی بنانے کیلئے جدوجہد کریں ۔ اسلامی خلافت اور مسلمانوں کے ابتدائی معاشرے میں صدیوں تک مساجد ہی وہ مراکز تھے جہاں سیاست ،امور مملکت اور مسلم سماج کے متعلق اہم فیصلے ہوا کرتے تھے لیکن جب خلافت ملوکیت میں بدلی تو مساجد محض عبادت گاہیں بن کر رہ گئیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز عالم دین اور آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی قاضی محمود الحسن اشرف کی سر براہی میں علماکے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وفد میں مولانا عبدالغفور ، مولانا قاضی منظور الحسن اور مولانا عبدالمالک صدیقی ایڈووکیٹ شامل تھے ۔