تازہ ترین

عمران فاروق قتل کیس،پراسیکیوٹرکےدلائل کےبعدفیصلہ محفوظ ہونےکاامکان

عمران-فاروق-قتل-کیس،پراسیکیوٹرکےدلائل-کےبعدفیصلہ-محفوظ-ہونےکاامکان

عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کے وکلاء کی جانب سے حتمی دلائل بدھ کو مکمل کرليے گئے۔ وکلاء نے محسن علی کے اعترافی بیان پر سوال اٹھا دیئے۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز آج بروز جمعرات دلائل دیں گے جس کے بعدعدالت اہم کیس کا فیصلہ محفوظ کرے گی۔ دس سال پرانا عمران فاروق قتل کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ایم کیو ایم کےرہنماء کے قاتل اور واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا،مقدے کے ملزمان خالد شمیم،معظم علی،محسن علی کے وکلا نے حتمی دلائل مکمل کرلئے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمعرات کو ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کچھ نکات پردلائل دیں گے جس کے بعدعدالت اہم کیس کا فیصلہ محفوظ کرے گی۔ ملزم محسن علی کے وکیل صفائی مہر بخش نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس سے محسن علی کا تعلق نہیں،اعترافی بیان دراصل ایف آئی اےافسران نےخود لکھا تھا اورمحسن سے زبردستی دستخط کروائے گئے،عینی شاہدین کےبیانات پر ملزم کا تیار خاکہ بھی محسن علی سےنہیں ملتا،مقتول کی بیوہ نے عدالت کے سامنے من گھڑت بیان دیا۔ وکیل مہر بخش نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں عمران فاروق کے سر کی قیمت مقرر ہوئی جس کے بعد کئی لوگ ان کی جان کے درپے تھے،استغاثہ کےپاس کوئی ثبوت نہیں جواس قتل سے بانی ایم کیو ایم سے کوئی تعلق ثابت کرے۔ ملزم معظم علی کے وکیل عارف ملک نے حتمی دلائل میں کہا کہ معظم علی کا عمران فاروق کے قتل سے کوئی تعلق نہیں،معظم علی  متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کا سفر کرچکے ہیں،نہ تو معظم علی کا برطانیہ جانا جرم ہے نہ ہی ان کی ایم کیوایم سے وابستگی کوئی جرم ہے، معظم علی  بزنس مین تھے،اُن کی بنک ٹرانزیکشن کو قتل کے ساتھ کیسے ملاسکتے ہیں؟۔ منگل کو ایف آئی اے پراسیکیوٹرخواجہ امتیاز نے ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون رابطوں اور آپس میں رقوم منتقل کرنے کا مکمل چارٹ پیش کیا تھا۔ دلائل میں خواجہ امتیاز نے کہا تھا کہ ملزم معظم علی کے اکاؤنٹ سے 9 لاکھ 25 ہزار روپے کاشف خان کو منتقل ہوئے،جبکہ 8 ستمبر 2010 کو کاشف کے اکاؤنٹ سےمعظم علی کو 28 لاکھ روپے منتقل ہوئے، یہ سہولت کاری ٹرانزیکشنز تھیں۔محسن علی نے 3ہزار پاؤنڈز ماہانہ فیس والے ادارے میں داخلہ لیا جبکہ اس کے ذرائع آمدن اتنے نہیں تھے،یہ داخلہ محض قتل کا منصوبہ مکمل کرنے کیلئے لیا گیا،محسن علی نے قتل کے فوری بعد برطانیہ چھوڑ بھی دیا،جس سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد تعلیم اور ڈگری کا حصول نہیں ، عمران فاروق کا قتل تھا۔دلائل میں مزید کہا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں محسن علی عمران فاروق کا پیچھا کرتا نظر آیا،چاقو پر فنگر پرنٹس بھی اسی کے ملے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں