ایم کیوایم رہنماءعمران فاروق قتل کیس فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگیا ہے،تینوں گرفتار ملزمان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیانات مکمل کرلئے گئے،عدالت نے 19 مئی کو فریقین سے حتمی دلائل طلب کرلئے، حتمی دلائل کے بعد کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ بدھ کو کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔کرونا لاک ڈاؤن کے دوران ملزمان کوعدالت میں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔عدالت نےایف آئی اے کو19 مئی کو حتمی دلائل دینے کا حکم دے دیا۔عمران فاروق کیس میں تینوں ملزمان کے بیانات مکمل ریکارڈ کرلئے گئے ہیں۔ ملزمان کی جانب سے اپنے حق میں کوئی دفاع پیش نہیں کیا گیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ایف آئی اے سے حتمی دلائل طلب کرلئےہیں۔تینوں ملزمان نے حتمی بیانات پر اڈیالہ جیل میں جج کے سامنے دستخط کردئیے۔ ملزمان نے عمران فاروق قتل کیس کا جرم قبول کرنے سے انکار کردیا۔اعترافی بیان ریکارڈ کرانے والے خالد شمیم اور محسن علی بھی اپنے بیان سے مکر گئے۔دونوں گرفتار ملزمان نے پانچ سال قبل مجسٹریٹ کواعترافی بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہےکہ بانی متحدہ الطاف حسین،افتخارحسین،انور محمود اور کاشف خان مقدمے کےاشتہاری ملزمان ہیں۔ ایف آئی اے اور ملزمان کے وکلاء کی جانب سے حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ تینوں ملزمان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کئے گئے۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹرعمران فاروق کو ستمبر 2010 میں لندن میں قتل کردیا گیا تھا