تازہ ترین

فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت

فضل-الرحمان-کے-خلاف-بغاوت-کی-کارروائی-کے-لیے-دائر-درخواست-پر-سماعت

لاہور: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ عدالت عالیہ کے جج جسٹس محمد امیر بھٹی ایڈووکیٹ ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کریں گے جس میں وفاقی حکومت، مولانا فضل الرحمان، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کوفضل الرحمن کی نفرت انگیز تقاریر کا ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔مولانافضل الرحمان کیخلاف کارروائی کی درخواست مسترد درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اشتعال انگیز تقاریر کر کے لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں جن سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔ متن میں درج ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا آسیہ بی بی کا فیصلہ بیرونی دباو میں دیا گیا جو توہین عدالت ہے۔ مولانا نے آزادی مارچ کے لیے ڈنڈا بردار اپنی فوج تیار کر لی جو قانون کے منافی ہے۔ دخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں مارچ کی تیاریوں پر کڑوڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں، عدالت مولانا فضل الرحمان کی اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے خلاف 124 اے کے تحت کاروائی حکم دے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو مولانا فضل الرحمان کو ملنے والی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا جائے اور پیمرا کو ان کی تقاریر نشر کرنے سے منع کیا جائے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے مولانا فضل الرحمان کیخلاف پابندی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی تھی۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ مولانا فضل الرحمن پر اداروں کے خلاف تقریر کی وجہ سے پابندی لگائی جائے۔ جج نے ریمارکس دی تھے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے آپ کس کس کو روکیں گے، ہمارے اپنے کردار ایسے ہونے چاہئیں کہ کوئی ہمارے بارے میں ایسی بات نہ کرے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں