مریض بچے گھنٹوں ڈاکٹروں کا انتظارکرتے رہے،ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کراچی: قومی ادارہ صحت برائے اطفال (این آئی سی ایچ) کے ڈاکٹروں نے منگل کو اوپی ڈیزکا بائیکاٹ کیا جس کے باعث مریض بچوں اور ان کے والدین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مریض بچے گھنٹوں ڈاکٹروں کا انتظار کرتے رہے لیکن ان کا معائنہ نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں سیکیورٹی دی جائے پھر کام کریں گے۔ واضح رہے کہ پیر کی شب قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں مریض بچی کے رشتہ داروں اور ڈاکٹروں کا جھگڑا ہوگیا تھا۔ رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے ان کی بچی فوت ہوگئی کیونکہ ڈاکٹر مرتضیٰ نے بچی کے لئے وینٹی لیٹر نہیں دیا تھا اور ان سے رشوت کا بھی تقاضا کیا گیا تھا۔ قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے ڈائریکٹر پروفیسرجمال رضا کے مطابق تین دن قبل ایک بچی کو علاج کے لئے لایا گیا جسے سیپسس تھے اس کا علاج بھی کیاگیااوراینٹی بائیوٹک ادویات بھی لگائی گئیں بچی کو آئی سی یو کی ضرورت پڑی تھی لیکن آئی سی یو میں جگہ نہیں تھی، اسی رات بچی کاانتقال ہوگیا تھا اور والدین میت لے کر چلے گئے تھے ۔ان کا کہنا تھاکہ کل اچانک بچی کے لواحقین پوری تیاری سے ایک گروہ کی شکل میں آئے اور انہوں نے ڈاکٹر مرتضیٰ پرتشدد کیا اور آئی سی یو میں توڑپھوڑکی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی یو میں 13 بستر ہیں اور کراچی کی آبادی دو کروڑکی ہے ایسے میں اگر ہمارے پاس بیڈ نہیں ہوگا توکیسے دیں گے۔ علاوہ ازیں صدر پولیس نے ڈاکٹروں پرتشدد اور اسپتال میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔