نئے نئے بہانے سننے کو ملتے ہیں، زیادہ ترشہری، بیماری یا تعزیت کے جواز پیش کرتے ہیں، روکیں تو برا بھلا کہتے ہیں ورنہ افسروں کی ڈانٹ:ناکوں پر کھڑے اہلکار لاک ڈاؤن پرموثر طریقے سے عمل درآمد جاری ،شہری تعاون کررہے ،رہنمائی بھی دی جارہی گھروں تک محدود رہنا ہی کورونا سے بچاؤ کا موثر طریقہ ہے :کمشنر لاہور: لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں کی نسبت شہریوں کی نقل وحرکت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔نقل وحرکت کرنے والے شہریوں کی طرف سے نت نئے بہانوں سے ناکوں پر تعینات اہلکاروں کے لیے بھی مشکل صورت حال پیدا ہونے لگی۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن کو11روز گزر گئے ہیں۔ تاہم اب شہریوں کی نقل وحرکت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ اِس کا اندازہ ناکوں پر سے گزرنے والے شہریوں کی تعداد بڑھنے سے لگایا گیا ہے ۔ دھرم پورہ چوک ناکے پر موجود ایک پولیس آفیسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایاگزشتہ چند روز سے اِس ناکے سے گزرنے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ پولیس آفیسر کے مطابق جب بھی کسی کو روکا جاتا ہے تو جواب میں نت نئے بہانے سننے کو ملتے ہیں، زیادہ ترشہری، بیماری، کسی کی عیادت یا پھر تعزیت کیلئے جانے کے جواز پیش کرتے ہیں۔شملہ پہاڑی چوک ناکے پر موجود ایک ٹریفک وارڈن کا کہنا تھاڈیوٹی ختم ہونے تک بہانے سن سن کر کان پک جاتے ہیں، اگر سختی کی جائے تو شہریوں کی طرف سے برابھلا سننے کو ملتا ہے،دوسری صورت میں افسروں کی ڈانٹ۔ کمشنر سیف انجم کاگفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا لاک ڈاؤن پرموثر طریقے سے عمل درآمد جاری ہے اور اِس میں شہری تعاون بھی کررہے ہیں تاہم شہریوں کو مزید احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ،شہریوں کو کورونا کے حوالے سے رہنمائی بھی فراہم کی جارہی ہے گھروں تک محدود رہنا ہی اس سے بچاؤ کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔