اسلام آباد : وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید 2ہفتے اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد 14 اپریل تک لاک ڈاؤن جاری رہے گا جبکہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ 14اپریل کوقومی رابطہ کمیٹی کی دوبارہ میٹنگ ہوگی جس میں لاک ڈاؤن میں سختی یا نرمی کا فیصلہ کیا جائیگا۔ اس دوران وہ سروسز اور صنعتیں جو بنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہے بدستور کھلی رہیں گی،کھانے پینے کی اشیاء، ادویات کی صنعتوں کو مکمل طورپر کھلا رکھنا بہت ضروری ہے۔گڈز ٹرانسپورٹ پر کوئی بندش نہیں ہوگی، اگر بندشیں نہ لگاتے تو کورونا کیسز کئی گنا بڑھ جاتے‘تمام فریقین این سی سی کے فیصلے پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے۔بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کیلئے خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی ‘،4 اپریل کوپہلی پرواز اسلام آباد آئیگی جس کے تمام مسافروں کو ائیرپورٹ پر قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کیاجائیگا، منفی آنے پر ہی انہیں جانے دیاجائے گا‘وزیراعظم نے تعمیراتی شعبہ کیلئے گائیڈ لائنز دینے کی ہدایت کی ہے۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے حکومت نے خصوصی پروازوں کی اجازت دیدی ہے‘یہ خصوصی پرواز 4 اپریل کو اسلام آباد آئے گی اور مسافروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا، اگر کورونا وائرس منفی آگیا تو انہیں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت ہوگیان کا کہنا تھا کہ 5 اپریل کو وزیرخارجہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی دوبارہ بیٹھے گی اور جائزہ لے گی کیا یہ منصوبہ مؤثر ہے یا نہیں کیونکہ پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے وائرس کا پھیلاؤ بڑھا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پہلی پرواز کے بعد ʼاگر 5 اپریل کو کمیٹی نے اس کے مثبت ہونے کا اشارہ دیا تو اس عمل کو جاری رکھا جائے گا اور پہلے جائزے کے بعد کراچی میں بھی پروازیں بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی اور وہاں بھی تمام سہولیات بحال کردی جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اندرون ملک پروازوں پر بندش جاری رہے گی‘اور یہ بھی جائزے سے مشروط ہے اور جب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا یہ بندش جاری رہے گی۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ کہ شکایات آئی ہیں کہ کچھ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے دفاتر بائیو میٹرک مشین سے حاضری لگارہے ہیں۔