کراچی: ناقص منصوبہ بندی کے باعث لاک ڈاؤن میں نرمی سہولت کے بجائے زحمت بن گئی،محدود وقت اور مخصوص دنوں میں بازارکھولنے کے اعلان کے باعث سڑکوں اور بازاروں میں ہجوم کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا جبکہ ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث دکانوں پر کام کرنے والے ملازمین ڈیوٹیوں پر نہیں پہنچ پارہے ہیں جس کے باعث دکانوں پر رش کو جلدی نمٹانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ،کاروں اور موٹر سائیکل مکینکس کو ہر صورت چار بجے تک گاڑی ٹھیک کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ،چار بجے کے بعد شہریوں کے لیے کھلی ہوئی کار یا موٹر سائیکل اگلی منزل پر لے جانا مشکل ثابت ہورہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری طویل لاک ڈاؤن میں نرمی ،ناقص منصوبہ بندی کے باعث شہریوں اور دکانداروں کے لیے زحمت بن گئی ہے ۔روز مرہ کے ضروری کام نمٹانا مشکل ہوگیا ہے ۔موٹر سائیکل مکینک اور کار مکینکس کا کہنا ہے کہ وہ مرمت کا کام شروع کرتے ہیں تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کام کب تک مکمل ہوگا تاہم چار بجے پولیس موبائلیں ورکشاپس بند کرانا شروع کردیتی ہیں جس کے باعث شہریوں کے لیے کھلی ہوئی موٹر سائیکل یا کار اگلی منزل پر لے جانا مشکل ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں دکانداروں کے پاس کام کرنے والے وہ ملازمین جو پبلک ٹرانسپورٹ سے اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچتے تھے انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔دکانوں پر خریداروں کے ہجوم نمٹانے کے لیے افرادی قوت کی کمی بھی مسئلہ بن گئی ہے ۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ہفتے اور اتوار کو مارکیٹیں بند رکھنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے ۔اگر حکومت بازاروں سے ہجوم کم کرنا چاہتی ہے تو صرف جمعے کو سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کرے تاکہ ہفتے اور اتوار کو بھی لوگ ضروریات زندگی خرید سکیں۔ واضح رہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کراچی کے تمام بازاروں میں دوسرے روز بھی شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کرنے پہنچ گئی تاہم انہیں دکانوں پر خریداری کے دوران مشکلات کا سامنا ہے ۔ہفتے میں صرف چار دن شام چار بجے سے پہلے خریداری کی اجازت نے بازاروں میں افراتفری کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔شاہ فیصل کالونی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کے ایک اہم خریداری مرکز کی باہر کی دکانیں بھی بند کرادی گئی ہیں جس کی وجہ سے اب دور دراز کے علاقوں میں جانا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب تاجر نمائندوں کا کہنا ہے کہ محدود وقت اور مخصوص دنوں میں نرمی کے اصول نے بے ہنگم صورتحال پیدا کردی۔