لاہور : لاک ڈاؤن سے بند صنعتوں اور کمرشل املاک کو ریلیف دینے کیلئے منصوبہ بندی کر لی گئی،واسا نے پانی کے بل معاف کرنے کے لیے ورکنگ پیپر ایل ڈی اے گورننگ باڈی کو بھیج دیا، بل معاف کرنے کے لیے شرائط وضع کر لی گئیں ۔ تفصیل کے مطابق کورونالاک ڈاؤن کے دوران بیشترصنعتیںاور تجارتی املاک ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بند ہیں،کمرشل اور انڈسٹریل زون بند ہونے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، اس بات کے پیش وفاقی حکومت کی ہدایت پر صنعتی یونٹس اور کمرشل صارفین کو ریلیف دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ واسا نے صنعتوں اور کمرشل صارفین کو مشروط طور پر پانی بل معاف کرنے کا فیصلہکیا ہیجس کے مطابق لاک ڈاؤن سے قبل مکمل ایکوافر بل جمع کرانے والے یونٹس کو ریلیف ملے گا، جن املاک نے 28 فروری تک مکمل بل جمع کرایا ہوگا ان کو آئندہ ماہ کے بل میں ریلیف ملے گا تاہم نادہندہ املاک اس سکیم سے مستفید نہ ہوں گی۔اسی طرح صنعتوں کے بند ہونے کا اندازہ ان کو جاری شدہ بجلی کے بلوں کا جائزہ لیکر کیا جائے گا، اگر صنعت لاک ڈاؤن میں بھی چالو تھی تو اسے ریلیف نہیں ملے گا۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی گورننگ باڈی کی منظوری سے صنعتوں اور کمرشل املاک کو پانی کے بلوں میں ریلیف ملے گا تاہم بلوں میں ریلیف حاصل کرنے کے لئے متعلقہ املاک کے مالک یا انتظامیہ کو واسا کو درخواست دینا لازمی ہوگی۔