تازہ ترین

ماہرہ خان کے فلاحی خدمات کی جانب بڑھتے قدم

ماہرہ-خان-کے-فلاحی-خدمات-کی-جانب-بڑھتے-قدم

ماہرہ خان نے فنی سفر کا آغازماڈلنگ سے کیا،بعدازاں ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں فن کا مظاہرہ کر کے مختصر مدت میں بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔ فلم بول، بن روئے ، ہو من جہاں، ورنہ ،پرے ہٹ لو اور سپر اسٹار میں دل کش اداکاری کی بعد ازاں وہ شاہ رخ خان کے مقابل فلم ’’رئیس‘‘ میں اداکاری کے جوہر دِکھا چکی ہیں۔ ہرسال ایشیاسے پرکشش افراد خصوصاً شوبزستاروں کی فہرست جاری کرنے والے برطانوی میگزین نے رواں برس بھی ایک فہرست جاری کی، جس میں ماہرہ خان کو مسلسل چوتھی بارشامل کیا گیاہے۔ اس فہرست میں انہوں نے بالی وڈ کی کئی اداکاراؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔پُرکشش شخصیت کی حامل اداکارہ ماہرہ خان قومی و بین الاقوامی ہر سطح پر متعدد فلمی ایوارڈز بھی اپنے نام کر چکی ہیں ۔کچھ عرصے قبل انہیں دبئی کی ایک عالمی تنظیم کی جانب سے بھی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ڈسٹنکٹیو انٹرنیشنل عرب فیسٹیول ایوارڈز (ڈی آئی اے ایف اے ) کی جانب سے انہیں ایوارڈ دیا گیا۔ جس کا اہتمام دبئی میں کیا گیا تھا،تقریب میں دنیا بھر سے شوبز اور نامور شخصیات نے شرکت کی۔ ماہرہ خان کو بیسویںیوکے ایشین فلم فیسٹیول میں بھی شرکت کا موقع ملا۔اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ ہم پُر امن دنیا کے متلاشی ہیں۔  حال ہی میں انہیں اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ذیلی ادارے ’’یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز‘‘ نے خیر سگالی سفیر مقرر کیا ہے۔ اس ادارے نے اس حوالے سےخوشی کا اظہار بھی کیا اور ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ اداکارہ یو این ایچ سی آر کا مقصد اچھے انداز میں پیش کریں گی،ساتھ ہی یو این ایچ سی آر نے اپنے ویب پیچ پر ایک ویڈیو بھی شئیر کی کہ جس میں ماہرہ خان اقوام متحدہ کی ٹوپی پہنے مہاجر بچوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں۔اس ویڈیو کو ماہرہ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شئیر کرتے ہوئے مداحوں سے کہا کہ مہاجرین کی خیرسگالی کی سفیر بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے،مجھے اپنے ملک پر جس نے چالیس برس افغان مہاجرین کی میزبانی پر فخر ہے۔ ماہرہ اس سے قبل پشاور اور کراچی کے افغان مہاجرین کیمپوں کا دورہ بھی کرتی رہی ہیں۔اس حوالے سے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ بعدازاں یو این ایچ سی آر کی جانب سے ان کے والدین کو ایک خط بھی روانہ کیا گیا، جسے پڑھ کر ماہرہ آبدیدہ ہو گئیں اور مذکورہ خط اپنے ٹوئٹرہینڈل سے شئیر کرتے ہوئے جذبات قابو نہ رکھ سکیں اورانہوں نے اپنے مداحوں کو پیغام میں لکھا کہ، مجھے والدین کے نام ایک خط موصول ہواہے ،یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس خط نے مجھے کس قدر جذباتی کر دیا ہے۔  میری کام یابی پر والدہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مجھے امید ہے اور دعاگو بھی ہوں کہ جو ذمے داریاں اس ملک اور میرے مداحوں نے مجھے دی ہیں،میں انہیں احسن طریقے سے نبھا سکوں۔ انہوں نے گزشتہ برس پشاور اور کراچی میں موجود افغان مہاجرین کے کیمپ کا دورہ بھی کیا تھا۔ماہرہ خان سماجی سرگرمیوں سے متعلق کافی سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ وہ ہمیشہ مہاجرین اور انسانی حقوق سے متعلق کھل کر بات کرتی ہیں،انہوں نے خواتین کے حقوق اور اُن پر تشدد کے حوالے سے مختلف فورم پر آواز بھی بلند کی،وہ اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے محدود سوچ اور منفی رویوں کو رد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے’’جسٹس فار زینب‘‘کے لیے مؤثر مہم بھی چلائی تھی۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں