تحریک انصاف کیلئے یہ عنصر اطمینان بخش ہے کہ ایم کیو ایم، پاکستان نے کابینہ اجلاس سے واک آئوٹ کے باوجود حکمراں مخلوط کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بحران کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر اسد عمر کی قیادت میں تحریک انصاف کا وفد ایم کیو ایم پاکستان سے مذاکرات کیلئے کراچی دوڑا چلا آیا۔ گوکہ خالد مقبول صدیقی نے وضاحت کی کہ مذاکرات کابینہ سے مستعفی ہونے کے لئے ان کے اعلان سے قبل ہی طے تھے۔ ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں 7کے علاوہ سینیٹ میں 5ووٹ ہیں ایم کیو ایم پاکستان کو بڑی شکایت یہی ہے کہ تحریک انصاف نے وعدے پورے نہیں کئے۔ ایم کیو ایم کا وزارتوں سے مستعفی ہونے کے اعلان کا طرز وہی ہے جو اس نے گزشتہ حکومتوں کے ساتھ اختیار کئے رکھا۔ اس کے نتیجے میں وہ اکثر مراعات لینے میں کامیاب رہی۔ ایم کیو ایم پاکستان کی بے چینی ابھر کر سامنے آئی اور حکومت کی ابتدائی کوششوں کے باوجود شکایات دُور نہیں ہوئے۔ اب بی این پی مینگل نے بھی اپنے تحفظات سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کے چار ارکان ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اور بی این پی مینگل کے ملا کر ووٹ تحریک انصاف کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور وہ اپنی بقاء کیلئے انہیں ملائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔