حکومت سمیت کوئی بلدیاتی ادارہ نالوں کو ڈھکنے کیلئے تیار نہیں، اربوں روپے خرچ کرنا کے ایم سی کے بس کی بات نہیں کراچی: کر اچی میں 30بڑے برساتی نالوں میں ہر سال بچوں کی ڈوب کر ہونے والی اموات کے باوجود صوبائی حکومت سمیت کوئی بلدیاتی ادارہ ان نالوں کو ڈھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ باخبرذرائع کے مطابق شہر میں چھوٹے بڑے 44 نالے ہیں جن میں ہزاروں چھوٹے نالوں اورنالیوں کا پانی شامل ہوکر انہیں خطرناک بنا دیتا ہے، شہرمیں پھیلے ہوئے 44 قدرتی بڑے نالوں کی لمبائی کا اندازہ 265 کلومیٹرلگایاجاتاہے، ان نالوں میں برانچ نالے بھی شامل ہیں جو خود براہ ر است کسی ندی یا سمندر تک نہیں جاتے بلکہ ان کا پانی کسی ایسے نالے میں شامل ہوجاتا ہے جو آگے جاکر لیاری و ملیر ندی میں شامل ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان نالوں کو ڈھکنے کے لیے اربوں روپے کی ضرورت ہے جو خرچ کرنا کے ایم سی و ڈی ایم سیز کے بس کی بات نہیں ہے ۔ روزنامہ دنیا کی جانب سے اسپیشل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ایس ایم طحٰہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ شہرکے تما م چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی کی ذمہ داری کے ایم سی اور ڈیم ایم سیز کی ہے ،اگرحکومت کہے گی تو ہم کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کی مدد کریں گے ۔ روزنامہ دنیا نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میونسپل سروسز ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی میں نالوں کی تعداد44 ہے، ان کے حوالے سے کے ایم سی کے پاس ڈیٹا موجود ہے لیکن لاکھوں رننگ فٹ نالوں سے کچر ا نکالنا ہی ہمارے لیے مسئلہ بناہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہرمیں موجود نالوں کے حوالے سے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ذمہ دار پروین رحمان شہید نے بہت کام کیا،ان کی مرتب کردہ ایک رپورٹ کی مدد سے ہم نے ایک نقشہ بنایا جس میں شہر میں موجود تما م چھوٹے بڑے اور برانچ نالوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ ان کی رپورٹ کے مطابق 44بڑے نالوں کی شہرمیں لمبائی 265کلومیٹر اوران کی رننگ فٹ لمبائی 8 لاکھ 70ہزار321فٹ ہے۔