ایران سے آئے ہوئے 18زائرین ڈاکٹروں کی مکمل تسلی کے بعد گھروں کوروانہ کرم پور میں 16مشتبہ افراد،جھڈو کے رہائشی میں بھی وائرس کی تصدیق نہ ہوسکی ٹنڈوالہ ٰیار،اندرون سندھ مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے 36مشتبہ کیسز سامنے آئے جن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ تفصیلات کے مطابق ایران سے آنے والے 18 زائرین سکھر قرنطینہ سینٹر سے کلیئر قرار دیے جانے کے بعد کوچ کے ذ ریعے ٹنڈوالہ یار پہنچ گئے ، زائرین کا ٹنڈومحمدخان میں میڈیکل ٹیم نے بھی طبی معائنہ کیا جس کے بعد پولیس نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی، زائرین میں دو بچے ، سات خواتین اور نو مرد شامل ہیں۔ کرم پور کیڈٹ کالج میں قائم قرنطینہ سینٹر میں 5روز قبل کورونا کے 16مشتبہ مریضوں کوداخل کیاگیاتھا جن کاتعلق کشمور سے تھاجن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی جس کی بناپر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انہیں گھرروانہ کردیاگیاہے ۔ روانگی سے قبل انہیں صوبائی وزیر شبیر علی بجارانی کی طرف سے صابن،ماسک اور سینی ٹائزر دیے گئے ۔ جھڈو کے رہائشی حبیب ولد حزب اللہ کو کورونا کے شک میں آئسولیشن وارڈ منتقل کیا گیا تھا،تاہم حبیب کی رپورٹ منفی آئی ہے ۔ محراب پور اسپتال میں قائم قرنطینہ سینٹر میں سہولتوں کا فقدان ہے جہاں گزشتہ روز آنے والے کورونا کے مشتبہ مریض کو داخل کرنے کے بجائے گھر واپس بھیج دیاگیاجس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ڈاکٹر لطف اللہ میمن اور ڈاکٹر تحسین کے مطابق کورونا وائرس کے مشتبہ شخص عبدالمجید راجپوت عرف جیدا رنگ والا کے گھر جاکر طبی معائنہ کرکے ٹیسٹ لیے گئے ہیں،مشتبہ شخص میں کورونا کی علامات نہیں ملی ہیں،مریض کو پرانا ٹائی فائیڈ بخار ہوسکتاہے ،تاہم ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے پرہی مزید تفصیلات معلوم ہوسکیں گی۔ محراب پور ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین خلیق الرحمن خالد کے مطابق ان کی تنظیم کی نشاندہی پرکورونا وائرس کے مشتبہ شخص عبدالمجید راجپوت کاطبی معائنہ کرایا گیا اور انہیں تحصیل اسپتال محراب پور میں قائم قرنطینہ سینٹر لیکر گئے تو وہاں پر سہولتوں کا فقدان نظرآیا ، قرنطینہ سینٹرمیں مشینیں ہیں ، کورونا کے ٹیسٹ کی کٹس ہیں اور نہ ہی ماسک ہیں ۔