لاہور: مخصوص کاروبار کھولنے کی اجازت کے ساتھ شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے کی حکومتی پالیسی غیرموثر ہونے لگی،نئے ہفتے کے پہلے روز شہر میں شہریوں کی بڑی تعداد میں آمدورفت سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کور وکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن برائے نام ہی رہ گیا ۔ شاہراہ قائداعظم ، کینال روڈ، فیروزپور روڈ، ریلوے روڈ سمیت شہر کی بیشتر مصروف شاہراہوں پر شہریوں کی آمدورفت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کے باعث، متعدد ناکوں پر تعینات اہلکار بھی غیرمتحرک دکھائی دئیے ۔ دوسری طرف شہر میں چائے کے کھوکھے ، پان سگریٹ کی دکانوں سمیت ایسے کاروبار بھی کھلے رہے جن کی حکومت کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی۔ الیکٹرانکس کی بڑی،عابد مارکیٹ اور جیل روڈ پر واقع کار مارکیٹ میں بھی تاجر حضرات بڑی تعداد میں دکھائی دئیے ۔ اِن تاجروں کی طرف سے قرار دیا گیا حکومت مکمل لاک ڈاؤن کرے یا تمام کاروبار کھولنے کی اجازت دے ۔ معلوم ہوا ہے مختلف مارکیٹوں کے تاجر وں نے آن کال کام شروع کردیا جو گاہک کے ساتھ طے شدہ وقت پر آکر اُسے مطلوبہ چیز فراہم کرکے دکان پھر بند کردیتے ہیں۔ اِس صورت حال پر شہر کی ایک اعلیٰ انتظامی شخصیت نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا اب شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا شہریوں سے اپیل ہی کی جاسکتی ہے کہ خدارابلاضرورت گھروں سے مت نکلیں۔