اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزار چڑیا گھر کے تمام جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ جمعرات 21 مئی کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 67 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کاون نے مرغزار چڑیا گھر میں تین دہائیوں سے بہت تکلیف برداشت کر لی ہے لہٰذا کاون ہاتھی کو 30 دن کے اندر محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کر دیا جائے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کاون ہاتھی سے متعلق وائلڈ لائف بورڈ سری لنکن ہائی کمیشن سے بھی رابطہ کرے اور کاون کو ملک کے اندر یا بیرون ملک جہاں بھی ممکن ہو پناہ گاہ میں منتقل کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کا چڑیا گھر بنیادی ضروریات اور سہولیات نہیں رکھتا جبکہ مرغزار چڑیا گھر میں قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی تھی۔ کاون کو 30 دن اور باقی تمام جانوروں کو 60 دن کے اندر پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے۔ جانوروں کے حقوق کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ رکھا گیا ہے لیکن جانوروں کو زندگی جیسے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔