کراچی : وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی اور وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر 200یونٹس بجلی استعمال کرنے والے گھریلوصارفین اور 2000تک کا گیس استعمال کرنے والے گھریلوصارفین کے بلوں کو معاف کرے۔ مساجد اور مدارس کے دو ماہ کے بلز کو معاف کیا جائے، مزدوروں سے جبری استعفیٰ لینے والے فیکٹری مالکان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کافیصلہ قومی سطح پرکیا جائے ، وفاقی حکومت نے مارکیٹس اورمالزکوکھولنے کی مخالفت کی ہے، سندھ میں پی ٹی آئی کے دوست اپنی پارٹی سے پوچھ لیں اور متنازع بیانات نہ دیں۔موجودہ حالات میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیئے۔ یکم جون سے سندھ کے تعلیمی اداروں کو کھولنا ممکن نظر نہیں آتا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار دونوں صوبائی وزراء نے سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔ سعید غنی نے کہا کہ محکمہ محنت اور تعلیم جن کے قلمدان میرے پاس ہیں ان دونوں محکموں کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر نوٹیفیکیشن کا اجراء لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی کردیا گیا تھا کہ ان دونوں محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کو ان کے مالکان تنخواہوں کی ادائیگی بھی کریں گے اور انہیں نوکری سے بھی نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ محنت کو تنخواہوں کی عدم فراہمی کے حوالے سے 61جبکہ نوکریوں سے برطرف کرنے کے حوالے سے12کل73شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کچھ فیکٹری مالکان مزدوروں سے جبری استعفیٰ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے ان سب کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ سعید غنی نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ہم نے 20 فیصد تک فیسوں میں رعایت کے لئے نجی اسکولز کو ہدایات دیں اور ہزاروں اسکولز نے ہمارے اس اعلان اور اس کے بعد 16اپریل کے معزز عدلیہ کے اسٹے آرڈر آنے کے بعد بھی رعایت دی اور 29اپریل کو اسٹے آرڈر کے خاتمے کے بعد بھی اس عمل کو جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے حوالے سے ہمیں 1243شکایات ملیں، جس میں سے 659کو حل کردیا گیا ہے۔