وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے سب رقم بھجوائیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سمیت دنیا میں کورونا وائرس کا عذاب آیا ہوا ہے، اس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے معاشی حالات پہلے ہی ٹھیک نہیں تھے جبکہ کورونا وائرس کے ان اثرات سے یہاں غربت بھی بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی، وزیراعظم ریلیف فنڈ میں حصہ ڈالیں۔انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی آبادی 30 کروڑ ہے اور وہاں 22 سو ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا گیا ہے۔تاہم عمران خان نے کہا کہ پاکستان جس کی آبادی 22 کروڑ ہے وہاں ہم نے ابھی تک 8 ارب ڈالر جمع کیا ہے جبکہ جرمنی اور جاپان نے ہم سے نصف آبادی ہونے کے باوجود ایک ہزار ڈالر فی کس کا ریلیف دیا ہے۔ https://twitter.com/PakPMO/status/1249617329593425921 انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اس میں پیسے بھجوائیں۔آخر میں عمران خان نے کہا کہ ہم اپنے نوجوان، ٹائگر فورس اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد سے کورونا کے خلاف جہاد میں کامیاب ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان کے دفتر کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے عطیات دینے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ اس فنڈ کے قیام کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کورونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔اس حوالے سے یکم اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔عمران خان نے فنڈ کے قیام کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں لاک ڈاؤن نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا۔ https://twitter.com/PakPMO/status/1249624068619407362 اس سے قبل قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ جو لوگ اس فنڈ میں عطیات جمع کروائیں گے انہیں ٹیکسز میں ریلیف دیا جائے گا جبکہ اس رقم کو ایک کروڑ 50 لاکھ ضرورت بندوں کو کھانا اور رقم فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کورونا وائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز عالمی برادری سے خطاب میں قرضوں میں چھوٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔