تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کی کمی بیشی ہمارے ملکی آبی وسائل کو متاثر کر رہی ہے، ماہرین زراعت

موسمیاتی-تبدیلیوں-کی-وجہ-سے-پانی-کی-کمی-بیشی-ہمارے-ملکی-آبی-وسائل-کو-متاثر-کر-رہی-ہے،-ماہرین-زراعت

فیصل آباد : فصل کی تاخیر سے کاشت ، کھادوں کے بے وقت و غیر متناسب استعمال ، جڑی بوٹیوں کی کثرت ، معیاری بیجوں کے عدم استعمال ، آبپاشی کے اوقات سے لاعلمی کے باعث گندم کی پیداوار مسلسل کم ہونے لگی ہے اور پاکستان میں گندم کی اوسط پیداوار 29 من فی ایکڑ تک محدودہو کر رہ گئی ہے جس کے برعکس بیرون ممالک کے کاشتکار اور ترقی پسند زمیندار جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے 60 من فی ایکڑتک پیداوار حاصل کر رہے ہیں لہٰذا کاشتکاروں کو جدید زرعی رجحانات سے آگاہی فراہم کرنا ہو گی تاکہ گندم کی بمپر کراپ حاصل ہوسکے۔ماہرین زراعت نے بتایاکہ گندم پاکستان کی اہم ترین غذائی جنس ہے جس سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اس کی برآمد سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گندم کو پانی کی مقدار پراثر انداز ہونے والے عوامل میں آب و ہوا زمینی صحت، ساخت اور زرخیزی،طریقہ کاشت، وقت کاشت، زمینی تیاری و ہمواری، فصلی ترتیب، پانی کی دستیابی، ذریعہ آبپاشی اور بارش شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کے لئے باکفایت آبپاشی ضروری ہے کیونکہ اگر گندم کی فصل کو بروقت پانی نہ دیا جائے تو اس سے پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی میں کمی بیشی ہمارے ملکی آبی وسائل کو کافی متاثر کر رہی ہے جس کا براہ راست اثر پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دور حاضر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق جس کے استعمال سے ایک تو پانی کی بچت ہو اور دوسری طرف نازک اوقات کی بروقت نشاندہی بہت اہم ہے۔انہوںنے بتایاکہ سائنسدانوں کی دن رات کی کاوشوں اور تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گندم کی نشوونما اور بڑھوتری کیلئے بعض اوقات بڑے نازک ہوتے ہیں جہاں پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے ان اوقات میں پانی کی کمی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں