لاہور سینئرتجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا ہے کہ مولانا کا”احتجاجی شو“ کامیاب نہیں ہوسکا،شو میں جے یوآئی (ف) کے لوگ شامل ہیں باقی لوگ نہیں،مولانا کے ساتھ کچھ خدشات کے باعث ان کا ورکر نہیں نکلا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہی توقع کررہے تھے جو آج ہوا ہے ، لیکن مولانا بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے،اس کی دوتین وجوہات ہیں جس کی وجہ سے مولانا کا شواس طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔پہلے کبھی ایسی تحریک والا شو نہیں کیا تھا۔ ایک یہ کہ مولانا جب پہلے جلسہ کرتے تھے تو وہ ایک شہر کے لوگ اکٹھے کرکے جلسہ کرلیتے تھے۔ انہوں نے پہلے کبھی ایسے نہیں کیا کہ یہاں سے نکلیں گے اور اسلام آباد جائیں گے۔ پہلے ہوتا یہ تھا کہ دیوبند مسلک کے تمام لوگ ساتھ ہوتے تھے۔ اسی طرح مولانا نے کہا کہ ہم ناموس رسالت ﷺ کا مارچ کریں گے، پھر سیاسی جماعتیں علیحدہ ہوئیں تو جمہوری احتجاج یا مارچ بن گیا۔پھر سسٹم کی بحالی اور 1973ء کے آئین کا شو ہوگیا، اس میں پھر آپ مدارس کے لوگوں کو اس طرح لے کرنہیں نکل سکتے۔شو میں جے یوآئی ف کی جماعت کے لوگ شامل ہیں، ن لیگ نے اپنا بالکل نیا بندہ محمد زبیر بھیج دیا۔اسی طرح بلاول بھٹو کو دیکھ لیں۔مولانا کے ساتھ کچھ خدشات کے باعث ان کا ورکرساتھ نہیں نکلا۔دوسری جانب دیکھا جائے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں ملک کی 10سیاسی جماعتوں کے کارکنان سمیت جے یوآئی ف کے کثیرتعداد میں کارکن شامل تھے۔لیکن اس کے باجود کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے آزادی مارچ میں انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر لوگ شامل ہیں۔ دوسری جانب تجزیہ کار مبشرلقمان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں مسلح جتھوں کی پریڈ نہیں کروائی، نہ ہی کبھی جرنیل بن کرسلامی لی، نہ کبھی احتجاجی تحریک چلائی،بلکہ وہ توہمیشہ حکومتوں کا حصہ رہے۔لیکن آج یہ احتجاج کی صورت کیوں پیش آئی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی ضد اور ذات سے باہر نہیں نکل رہے۔کیونکہ 1973ء کے آئین کے تناظر میں دیکھا جائے تو مولانا ہمیشہ مذاکرات ہی کیے ہیں۔کچھ لوکچھ دوکی سیاست کی۔ مگر اب وہ امن کے چراغ بجھانا چاہتے ہیں۔