سابق فاسٹ بالرعاقب جاوید نے کہا ہے کہ ميچ فکسنگ گہری کھائی ہےجس کےپيچھے ڈوريں رکھنےوالے بہت مضبوط ہيں،1994 ميں دورہ سری لنکا پر ميچ فکسنگ کےٹھوس ثبوت لےکرعدالت گيا،سابق کرکٹرسليم پرويزکےذريعے کھلاڑيوں کوميچ فکسنگ کی پیش کش کی گئی۔ عاقب جاويد نے کہا کہ 1994 ميں دورہ سری لنکا پر ميچ فکسنگ کے ٹھوس ثبوت لےکرعدالت گيا،سابق کرکٹرسليم پرويز کے ذريعےکھلاڑيوں کوميچ فکسنگ کی پیش کش کی گئی،پہلے مجھےايک ملوث شخص کےذريعےکہا گيا کہ ان کےساتھ مل جاؤ ورنہ تمھاری کرکٹ ختم ہوجائےگی،بعد ميں کھلاڑيوں نے خود بھی مجھے پیش کش دی اور ڈرايا بھی کہ بوٹی بوٹی کرديں گے۔عاقب جاويد نےکہا کہ ميچ فکسنگ گہری کھائی ہےجس کےپيچھے ڈوريں رکھنےوالے بہت مضبوط ہيں۔ انھوں نےمزیدکہا کہ عدالت ميں حيران ہوا کہ جب سارےکھلاڑيوں کےبيان اوپن ہوئےاورميرابيان بند کمرےميں لياگيا،جسٹس قيوم کوسب بتايا ليکن رپورٹ ميں صرف باہر کی گئی ڈيڑھ منٹ کی بات شامل تھی۔ عاقب جاويد کا کہنا تھا کہ بڑی گاڑياں اور50لاکھ روپے ايک کھلاڑی کےاکاؤنٹ ميں گئے،جن کھلاڑيوں نےميچ فکسنگ کی پیش کش دی وہ ميرےليول کےہی کرکٹرزتھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 1998ميں مجھےٹيم ميٹنگ کےدوران کہا گيا کہ تم باہرجاؤ،ہم نےبات کرنی ہے،مجھےسليم ملک نےچائےبنانے کاکہا تو ميں نےکہا کہ خود بنالو،پہلےہفتےميں ہی مجھےيہ انعام مل گيا تھا کہ يہ بدتميز کہاں سےآگيا۔ ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئےعاقب جاويد نے کہا کہ ايک بار ايک لڑکی مجھ سے شادی کرنے کيلئے دلہن بن کرپاکستان کرکٹ بورڈ کے دفترآگئی تھی،اس نےکہا تھا کہ عاقب کوبلاؤ،مجھ سےشادی کرے،اب ميں واپس گئی تومجھےمارديں گے،پھر ميں نے آکراس کے سامنے ہاتھ جوڑے اوربڑی مشکل سےواپس بھيجا۔ سابق فاسٹ بالرعاقب جاويد نے کہا ہے کہ سب کوراضی کرنے کيلئےدورہ انگلينڈ پر29 کھلاڑی اور 14 سپورٹنگ اسٹاف لےکرجانا مذاق ہے،ايسا لگتا ہےکہ جيسے 30 ٹيسٹ کھيلنےہيں اورہرروز5 کھلاڑی ان فٹ ہوںگے۔