ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ ہماری رجسٹریشن کی فائلوں پر دستخط نہیں کر رہے ، مظاہرین دواؤں کی جانچ پڑتال کیلئے ناتجربہ کار افراد کو لگادیا گیا، حیدرآباد میں پریس کانفرنس میرپورخاص، اندرون سندھ میرپورخاص ، لاڑکانہ اور نواب شاہ میں فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے گئے جبکہ حیدرآباد میں ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے پریس کانفرنس کی۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا گیا۔ وجدان،نوید ڈیتھو،مختار احمد شاہ،احسن اسحاق اور دیگر نے کہا کہ سندھ کے سوا ملک کے دیگر صوبوں میں 50 بستروں ،میڈیکل اسٹوروں اور فارمیسی میں فارماسسٹ کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ سندھ کے 600فارماسسٹ بے روزگار ہیں ، سیکریٹری ہیلتھ نے فارماسسٹ کی رجسٹریشن کا اختیار ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ کو دے دیا ہے لیکن ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ ہماری رجسٹریشن کی فائلوں پر دستخط نہیں کر رہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام فارماسسٹ کی فوری رجسٹریشن کر کے انہیں اسپتالوں،میڈیکل اسٹوروں اور فارمیسی میں تعینات کیا جائے ۔لاڑکانہ میں پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ اشفاق برڑو ، ڈاکٹر ریاض پٹھان، ڈاکٹر بلاول شیخ، دودو خان بھٹو و دیگر کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ سال محنت کرکے فارماسسٹ کی ڈگری حاصل کی لیکن ہم کئی سال سے بے روزگار ہیں، ہزاروں فارماسسٹ کو محکمہ صحت میں ملازمتیں نہیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے تھے کہ 50 بستروں والے اسپتال میں ایک فارماسسٹ تعینات کیا جائے لیکن سندھ میں اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 1184 فارماسسٹ اور بلوچستان میں 412 فارماسسٹ مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں لیکن لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال میں جو 1400 بستروں پر مشتمل ہے وہاں صرف 15 فارماسسٹ ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں، انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے 50 بستروں پر ایک فارماسسٹ کو تعینات کیا جائے ۔ نواب شاہ پریس کلب کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ ذوالفقار علی جمالی، میر محمدبلوچ، ارسلان احمد، جمن لال ودیگر نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں 50بستروں پر ایک فارماسسٹ کا تقرر کیا جائے ، ٹیچنگ اسپتال میں ڈپارٹمنٹ آف فارمیسی قائم کیا جائے ، سندھ کے ہر ضلعے اور تعلقہ ہیڈ کوارٹر میں فارمیسی اور ڈرگ انسپکٹر مقرر کیے جائیں، فارمیسی کونسل آف پاکستان سندھ کو اپ گریڈ کیا جائے اورپاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی فارماسسٹ کو سرکاری نوکریاں دی جائیں۔ حیدرآباد پریس کلب میں پاکستان فارمسسٹ ایسوسی ایشن سندھ کے رہنما ڈاکٹر شہزاد قریشی ، ڈاکٹر احسان میمن اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے صحت کے شعبے میں بہتری کے تمام دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں، اسپتالوں اور صحت مراکز میں منظوری کے باوجود فارمسسٹ کی 300سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ پانچ سے زائد اضلاع میں ڈرگ انسپکٹر بھی تعینات نہیں کئے گئے ہیں ، دواؤں کی فراہمی اور ان کی جانچ پڑتال کے لئے ناتجربہ کار افراد کو لگادیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے سیکریٹری کو 600فارمسسٹ کی رجسٹریشن کے لئے خطوط لکھے لیکن ان خطوط کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، انہوں نے کہاکہ 366فارمسسٹ کے تقرر کی منظوری دی گئی لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا ، صوبے کے اسپتالوں اور مراکز صحت میں 1280فارمسسٹ کی ضرورت ہے لیکن صرف 157 فارمسسٹ کام کررہے ہیں ۔