تازہ ترین

میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا وعدہ کرنے والے حکمران خاموش کیوں ہیں؟ طاہر القادری

میرے-شانہ-بشانہ-کھڑے-ہوکر-سانحہ-ماڈل-ٹاؤن-کے-انصاف-کا-وعدہ-کرنے-والے-حکمران-خاموش-کیوں-ہیں؟-طاہر-القادری

میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا وعدہ کرنے والے حکمران اب خاموش کیوں ہیں؟ طاہر القادری ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے بھی تاحال ماڈل ٹاؤن سانحہ کے مظلوموں کو انصاف نہیں دلا سکے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں تحریک منہاج القرآن کےسربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک میں آج ماڈل ٹاؤن سانحے کو 6 سال ہوگئے ہیں، پہلے تو اس ملک پر وہ لوگ حکمران تھے جنہوں نے رات کی تاریکی میں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور نہتے انسانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا ہمیں تو ان حکمرانوں کے خلاف انصاف چاہیے تھا، آج ملک میں ریاست مدینہ بنانے والوں کی حکومت ہے لیکن اس سانحے کاشکار افراد اب بھی انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کا سربراہ ہو شخص ہے جس نے میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کو انصاف دلوائے گا، عمرا ن خان نے وعدہ کیا تھا کہ ان مظلوموں کو انصاف دلواؤں گا، وہ مرکز اور پنجاب میں حکومت میں ہیں، اور اب وہ خاموش ہیں اور ایک بیان تک دینے کے روادار نہیں ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ سرگودھا میں انصاف کیلئے احتجاج کرنے والوں کو سات سات سال قید کی سزا سنادی گئی، ہم آہ و پکار کرنے والے جیلوں میں ہیں ضمانتیں کروارہے ہیں، مگر انسانوں کو خون بہانے والے آزاد ہیں ، اپنی سیاسی کارروائیوں میں مصروف ہیں، ظلم کرنے والا بھی ظالم ہے، ظلم کو چھپانے والا بھی ظالم ہے اور ظالم کی داد رسی نہ کرنے والا بھی ظالم ہے، ریاستیں اور حکومتیں کفر کے ساتھ چل سکتی ہیں ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتیں ، اور ظالم ہر صورت اپنے انجام کو ضرور پہنچے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ میرا سوال ہے یہ ریاست مدینہ ہے؟ یہ قانون کی بالادستی ہے؟ اس سانحے کے ذمےداران میں سے کچھ جیلوں میں ہیں کچھ ضمانتوں پر ہیں اور کچھ ملک سے باہر ہیں، یہ لوگ شدید دباؤ میں ہیں، میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں اب انصاف کی راہ میں کونسی رکاوٹ ہے؟ اب مظلوموں اور کمزوروں کو انصاف دلانے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدالتوں میں مسلسل قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، 5 سال کی جدوجہد کے بعد آزادنہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل کروانے میں کامیاب ہوئے، اس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد بشمول نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ ریکارڈ کیے گئے اب صرف اس کی رپورٹ عدالت میں پیش ہونی تھی ، اور عین اس وقت اس جے آئی ٹی کو معطل کروادیا گیا، ہمیں تاریخیں نہیں ملتی بینچ تشکیل نہیں دیے جاتے ، اور یہ سب اس ملک میں ہورہا ہے جسے ریاست مدینہ کا نام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حصول انصاف اور حصول قصاص تک جنگ جار ی رکھیں گے، میں شہیدوں اور ان کے ورثاء کو سلام پیش کرتا ہوں، میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں ، وہ نہ بکے ہیں نہ جھکے ہیں اور نہ مایوس ہوئے ہیں ، وہ غریب بھوکے لوگ پھر بھی انصاف کے حصول کیلئے کھڑے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں