فیصل آباد: صنعتی اور ملک کے تیسرے بڑے شہر میں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے سولر ٹریفک سگنلز سسٹم منصوبہ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے فلاپ ہو گیا، سولر پلیٹس اور بیٹریوں سمیت قیمتی سامان چوری ہو چکا جبکہ متعلقہ محکمے ایک دوسرے کو چٹھیاں لکھنے میں مصروف ہیں ٹیکسٹائل سٹی فیصل آباد میں چوراہوں اور شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لیے 2014 میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت سے ایف ڈی اے کی جانب سے سولر ٹریفک سگنل منصوبہ متعارف کروایا گیا جس کی دیکھ بھال کی ذ مہ داری محکمہ روڈز کی تھی اداروں کا انفراسٹرکچر تبدیل ہونے کے بعد سولر ٹریفک سگنلز کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ داری میٹروپولیٹن میونسپل کارپوریشن کو سونپ دی گئی دیکھ بھال اور مرمت کا موثر نظام نہ ہونے سے سولر ٹریفک سگنلز کا منصوبہ ایک سال بعد ہی ناکام ہو گیا تھا 5 سال سے کسی ادارے نے ان سولر ٹریفک سگنل کی مرمت تک نہیں کروائی شہر میں نصب 26 سگنلز میں سے صرف 3 مقامات پر ہی ٹریفک سگنلز چلتے ہیں جبکہ 17 سولر ٹریفک سگنلز خراب اور 6 چوراہوں کے اشارے مکمل طور پر بند ہیں ذرائع کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے انتظامیہ کوسولر ٹریفک سسٹم اور سگنلز کو فعال کرنے کی چٹھیاں تو بے شمار لکھی جا چکی ہیں لیکن اس کاغذی کارروائی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا پنجاب کے دوسرے بڑے شہر میں آج بھی وارڈنز ہاتھ کے اشاروں سے ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں شہری کروڑوں روپے کے اس منصوبے پر توجہ نہ ہونے پر حکومت سے نالاں ہیں معاملے پرچیف افسر میٹروپولیٹن میونسپل کارپوریشن سردار نصیر نے موقف دیتے ہوئے سولر ٹریفک سگنلز چوری ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے جلد ان سگنلز کی مرمت اور انہیں چالو کرنے متعلق اقدامات کا بھی دعویٰ کردیا ۔