نقل کیلئے عقل کی بھی ضرورت ہوتی ہے آپ نے یہ محاورہ کئی بار سنا ہو گا جس کا واضح مقصد یہ ہوتا ہے جس سے متعلق یہ بات کہی جائے اس کے اندر دماغ کی کمی ہے بلکہ اگر بھارت سے متعلق بات کی جائے تو یہاں دماغ کی کمی بالکل نہیں بلکہ سرے سے دماغ ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے جنونی طور پر جھوٹ بولنے کی عادت نہیں چھوڑی بھارتی فضائیہ نے مگ21 طیارے کے ملبے کو پاکستانی ایئر فورس کا رنگ دے کر اسے 1971 کی جنگی ٹرافی کے طور پر اپنے ایئر بیس کے باہر رکھا ہوا ہے۔ بھارتی عوام کو جھوٹی تسلی دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کو یہ بھی خیال نہیں رہا کہ انہوں نے اس طیارے پر ایک جانب پاکستانی جھنڈا الٹا بنا رکھا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ تباہی کے باوجود بھی طیارے پر پاکستانی جھنڈا بالکل صحیح سلامت موجود ہے جو کہ ان کی چھاتی پر مونگ دلنے کیلئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی فضائیہ نے طیارے پر موجود اپنا سیریل نمبر بھی نہیں ہٹایا جو کہ سی سے شروع ہوتا ہے جو کہ صرف بھارت اپنے جہازوں کے لیے استعمال کرتا ہے دیگر تصاویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت اپنے جہازوں پر سیریل نمبر انگریزی کے حرف ‘C’ سے شروع ہوتا ہے۔ پاک فضائیہ نے سیریل نمبر کے ساتھ کبھی انگریزی کے حروف استعمال نہیں کیے اور نہ ہی کبھی پاک فضائیہ نے اپنے جنگی جہازوں میں پہلے مگ 21 کا استعمال کیا تھا۔ https://www.facebook.com/developingPak/posts/2793036580824022 مگ 21 اسی قسم کا جہاز ہے جس پر بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے پاکستان میں گھسنے کی کوشش کی تو پاکستانی شاہینوں نے اس کے جہاز کو نیست و نابود کر دیا تھا اور اس کو زندہ حالت میں پکڑ کر جنگی اصولوں کے تحت پھر بھارت کو واپس کر دیا۔ یاد رہے کہ 1990 کی دہائی کے آغاز سے پہلے پاکستان نے ایف-7 طیارے کو اپنے جنگی ہتھیاروں میں شامل ہی نہیں کیا تھا۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔