لاہور: نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی گئی ہے، علاج کروانا نواز شریف کا بنیادی حق ہے۔ نواز شریف اندرون و بیرون ملک جہاں چاہیں علاج کروا سکتے ہیں، عدالت نے سات صفحات پر مشتمل تحریر فیصلہ جاری دیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے میڈیکل بورڈ مکمل طور پر مرض کی تشخیص کرنے میں ناکام رہا، ذرائع کے مطابق نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے نہیں جانا چاہتے نا ہی ان کی خواہش ہے لیکن اگر یہاں علاج نا ممکن ہوا تو باہر جانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ یاد رہے لاہور ہائیکورٹ نے چودھری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نواز شریف کے لئے شہباز شریف کی دائر کردہ درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کی جان خطرے میں ہے، جس پر میڈیکل بورڈ کے سبراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا جی نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے، گزشتہ رات نواز شریف کے سینے اور بازوؤں میں بھی تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر محمود ایاز نے نواز شریف کی مکمل میڈیکل ہسٹری عدالت میں بیان کی اور کہا نواز شریف تب سفر کر سکتے ہیں جب ان کے پلیٹ لیٹس 50 ہزار ہوں، پہلے 6 رکنی بورڈ تھا اس کے بعد 9 اور اب 10 رکنی بورڈ علاج کر رہا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا آپ نواز شریف کے ہسپتال میں علاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں، جس پر ڈاکٹر ایاز محمود نے کہا نواز شریف کی بیماری کی مکمل تشخیص نہیں ہوئی، نواز شریف کو بیماری ہوئی کیسے اس بات کا پتا چلا رہے ہیں۔ جج نے نیب وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کیا نیب اس درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے ؟ جس پر نیب وکیل نے کہا نواز شریف کی صحت خطرے میں ہے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔ میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز نے لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران بتایا نواز شریف کو شوگر، یورک ایسڈ، دل اور جگر کی بیماریاں ہیں، ان کے پلیٹ لیٹس بنتے اور کم ہوتے ہیں۔